Saturday , December 15 2018

ٹی آر ایس میں شمولیت

تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے سامنے دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی ساکھ لاحق خطرات کے درمیان تلنگانہ تلگو دیشم لیڈر اوما مادھو ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنایا جاکر یہ تنقیدیں ہورہی ہیں کہ حکمراں پارٹی تلنگانہ راشٹرا سمیتی دیگر پارٹیوں کے قائدین کو لالچ دے کر اپنی صف میں شامل کرنے کی شرمناک سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔ تلگو دیشم سے تلنگانہ کے اہم لیڈر ریونت ریڈی کی علحدگی اور کانگریس میں شمولیت کے بعد ٹی آر ایس کو اندیشہ ہونے لگا تھا کہ تلگو دیشم کے دیگر قائدین بھی کانگریس میں شامل ہوں گے ۔ تلنگانہ تلگو دیشم کے سابق وزراء اور سرگرم قائدین کو کانگریس میں شامل ہونے سے روکنے کی ایک کوشش کے حصہ کے طور پر اوما مادھو ریڈی کو ٹی آر ایس میں آنے کی کامیاب ترغیب دی گئی ۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد سیاستدانوں کا سیاسی مستقبل بھی منقسم ہوگیا ۔ تلنگانہ میں اقتدار سے محرومی کا شکار قائدین کو اپنے لیے ایک مضبوط سیاسی ٹھکانے کی تلاش تھی ۔ ٹی آر ایس کو سیاسی مضبوطی حاصل ہونے سے اپوزیشن کے کئی قائدین اس پارٹی میں اپنا مستقبل تلاش کرنے لگے اب تک اپوزیشن پارٹیوں سے علحدہ ہو کر ٹی آر ایس پارٹی میں شامل ہونے والے کئی قائدین کو اگرچیکہ کوئی سیاسی مقام حاصل نہیں ہوا ہے لیکن ایک حکمراں پارٹی کا لیبل لگا کر سیاسی حلقوں میں سانس لینا ہی سیاسی بقا سمجھی جارہی ہے ۔ اپوزیشن کے طور پر تلگودیشم کا دن بہ دن کمزور پڑنا خود اس پارٹی کے اہم قائدین کے لیے سانحہ سے کم نہیں ہے ۔ کانگریس نے بھی اپنے کئی سینئیر قائدین کھو دئیے ہیں اور یہ سیاسی دل بدلی کا عمل نیا نہیں ہے ۔ سیاسی طور پر بے روزگار ہونے والے قائدین اکثر حکمراں پارٹی میں جگہ پانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو مضبوط موقف ملنے کے بعد دیگر پارٹیوں کے کئی قائدین کو اپنا سیاسی مستقبل تاریک نظر آنے لگا ۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ 3 سال کے دوران اپوزیشن سے وابستہ کئی قائدین نے حکمراں پارٹی کو اپنا مستقبل بنالیا ، ہوسکتا ہے کہ کل یہ پارٹی اقتدار سے محروم ہوجائے اور کانگریس اور تلگودیشم چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین پھر سے سیاسی طور پر بے سہارا ہوجائیں گے تو یہ لوگ اپنی عادت اور غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے یا تو چھوڑی ہوئی پارٹی میں واپس ہوں گے یا پھر نئی سیاسی طاقت کو تلاش کریں گے ۔

سیاسی دل بدلی کا یہ چلن معیوب حد تک بڑھ جائے تو سیاسی وقار داؤ پر لگ جاتا ہے ۔ مگر بعض قائدین کو اپنے وقار اور معیار کی بھی فکر نہیں رہتی وہ تو بس سیاسی آسرا تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ پارٹیوں سے انحراف کا چلن روکنے کے لیے ہی انسداد قانون انحراف لایا گیا تھا ۔ ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد میں اپنی پارٹی سے انحراف کرنا بھی ایک موقع پرستانہ عمل کہلاتا ہے ۔ اس کے باوجودکئی سیاستداں اپنی پارٹی چھوڑ کر سودے بازی کے ذریعہ دوسری پارٹیوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتے ہیں ۔ یہ عمل خاص کر ایوان اسمبلی یہی اقلیت میں رہنے والی حکمراں پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ہوتا ہے یا پھر کسی کمزور حکمراں پارٹی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لیے سودے بازی کے ذریعہ انحراف ناپسندیدہ کوشش کی جاتی ہے ۔ بہر حال تلنگانہ میں حالیہ دنوں میں دل بدلی کا عمل بڑھ گیا ہے اور آنے والے اسمبلی انتخابات 2019 تک حکمراں پارٹی کے ساتھ سیاسی عشق کا مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ ایسے میں دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی صفوں کو کمزور ہونے سے روکنے کے لیے موثر حکمت عملی طئے کرنی ہوگی ۔ تلنگانہ کی سیاسی پارٹیوں کا افسوسناک مسئلہ یہ ہے کہ ان پارٹیوں کی قیادت سیاسی حالات کا ادراک کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے ۔ تلنگانہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ٹی آر ایس پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے آپریشن آکرشن جاری رکھا ہے ۔ اس آپریشن کی زد میں کانگریس اور تلگو دیشم پارٹیاں آچکی ہیں ۔ آنے والے دنوں میں کانگریس اور تلگو دیشم سے مزید ارکان حکمراں پارٹی کے قریب ہوجائیں گے ۔ ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والی اوما مادھو ریڈی دراصل سابق وزیرداخلہ اے مادھو ریڈی کی بیوہ ہیں جن کا شمار تلگو دیشم کے سرکردہ قائدین میں ہوتا ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں شکست کے بعد وہ سیاسی طور پر خود کو سرگرم رکھنا چاہتی تھیں اس لیے تلنگانہ کی ترقی کی جدوجہد میں کے چندر شیکھر راؤ کا ہاتھ بٹانے کے لیے ٹی آر ایس میں شامل ہوگئی ہیں تو انہیں اپنے اس عہد پر ہمیشہ کے لیے قائم رہنا چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT