Tuesday , December 11 2018

ٹی آر ایس میں کسی بھی قائد کی عزت نہیں : بڈھن بیگ

کے سی آر اور کے ٹی آر کسی کو بھی ملاقات کا وقت نہیں دیتے ، ٹی ایس آئی ڈی سی سے مستعفی چیرمین کا بیان
حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں کسی بھی قائدین کی عزت نہیں ہے اور مہینوں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کے لیے اپائنمنٹ دستیاب نہیں ہوتا ہے ۔ چندر شیکھر راؤ اور کے ٹی آر یہ تصور کرتے ہیں کہ چند قائدین کو عہدے دے دیئے گئے دوبارہ ان سے ملاقات کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے محض عزت نفس کے لیے ٹی آر ایس سے مستعفی ہونے کا مسٹر بڈھن بیگ صدر نشین ٹی ایس آئی ڈی سی و سینئیر قائد ٹی آر ایس نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ریاستی وزراء کو ہی ملاقات کا موقعہ نہیں دیا جاتا ہے تو پارٹی قائدین کا کیا حال ہوگا اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مسٹر بڈھن بیگ نے دیگر قائدین کے ہمراہ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی سے استعفیٰ دینے کی اہم وجوہات سے واقف کروایا اور صدر ٹی آر ایس و نگران کار چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا کہ ریاست میں راؤ کی حکومت گڑھیوں میں چل رہی ہے اور اپنے فارم ہاوز کو چندر شیکھر راؤ نے گڑھی میں تبدیل کر کے چند خاص وزراء و ارکان اسمبلی کو وہاں طلب کر کے اپنی من مانی حکومت چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کے سی آر نے انہیں بحیثیت صدر نشین ٹی ایس آئی ڈی سی تقرر کر کے دو سال مکمل ہوئے لیکن ایک روپیہ بھی فنڈ فراہم نہیں کیا

اور ٹی ایس آئی ڈی سی کے متعلقہ وزیر کی حیثیت سے کے ٹی راما راؤ نے بھی گذشتہ دو سال کے دوران متعدد مرتبہ ملاقات کی کوشش کرنے پر کم از کم ایک مرتبہ بھی ملاقات کا موقعہ فراہم نہیں کیا ۔ انہوں نے کے سی آر اور کے ٹی آر کے اس طرز عمل پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے مطالبہ پر صرف فرض کی تکمیل کے طور پر اسمبلی میں قرار داد منظور کر کے لوک سبھا میں منظوری کے لیے روانہ کر کے خاموشی اختیار کی اور مرکزی حکومت سے ایک مرتبہ بھی منظوری دینے کی خواہش نہیں کی اور اس طرح 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ۔ مسٹر بیگ نے مزید کہا کہ وہ پارٹی سے وابستہ رہنے تک کے سی آر کی نظر میں ایماندار قائد تصور کئے جاتے تھے اور جیسے ہی ٹی آر ایس سے مستعفی ہوئے ان پر مسٹر ناگیشور راؤ سے دو کروڑ روپئے حاصل کرلینے کا الزام عائد کیا جو کہ بالکلیہ طور پر غلط و بے بنیاد بات ہے ۔ مسٹر بیگ نے دو کروڑ روپئے حاصل کرنے کے الزام کی پر زور تردید کی ۔ مسٹر بیگ نے مزید کہا کہ محض اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت عظیم اتحاد سے متاثر ہو کر ہی تلگو دیشم پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا اور عظیم اتحادی امیدواروں کی کامیابی کے لیے اپنی مکمل کوشش کرنے کا یقین دلایا ۔۔

TOPPOPULARRECENT