Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس و کانگریس قائدین میں لفظی جھڑپ میں شدت

ٹی آر ایس و کانگریس قائدین میں لفظی جھڑپ میں شدت

جئے رام رمیش کے بیانات کی شدید مذمت : مفاہمت کے امکانات متاثر : ہریش راؤ کا بیان

جئے رام رمیش کے بیانات کی شدید مذمت : مفاہمت کے امکانات متاثر : ہریش راؤ کا بیان

حیدرآباد /11فبروری ( سیاست نیوز) آئندہ عام انتخابات میں کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان انتخابی مفاہمت کے امکانات ختم ہوتے جارہے ہیں۔ کانگریس و ٹی آر ایس قائدین کے درمیان لفظی جھڑپ میں شدت کے باعث توقع ہے کہ دونوں پارٹیاں انتخابات میں تنہا حصہ لیں گی۔ مرکزی وزیر جئے رام رمیش کی جانب سے ریاست کے مختلف علاقوں کے دورہ کے موقع پر مخالف ٹی آر ایس بیانات کا آج ٹی آر ایس نے سخت الفاظ میں جواب دیا ۔ پارٹی کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے جئے رام رمیش کو زبان پر قابو رکھنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹی آر ایس پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری رہا تو قائدین اور کارکن خاموش نہیں رہیں گے اور شدت سے جواب دیا جائے گا۔ ہریش راؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جئے رام رمیش کو تلنگانہ کا ویلن اور مہا بھارت کا ’’ شکونی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعہ دونوں پارٹیوں کے درمیان تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جئے رام رمیش کانگریس صدر سونیا گاندھی کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک طرف کانگریس ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ٹی آر ایس پر تنقید کی جارہی ہے، کیا یہی مفاہمت کا طریقہ کار ہے۔انہوں نے کہا کہ جئے رام رمیش اور کانگریس قائدین نے کبھی تلنگانہ تحریک میں حصہ نہیں لیا اور جے اے سی کی اجتماعی استعفوں کی اپیل پر کانگریس قائدین نے استعفے پیش نہیں کئے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس زیر قیادت حکومت نے ٹی آر ایس اور جے اے سی قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے جو کہ آج بھی برقرار ہیں۔

ہریش راؤ نے کہا کہ جے اے سی اور ٹی آر ایس کے درمیان دوری پیدا کرنے جئے رام رمیش آئندہ انتخابات میں جے اے سی قائدین کو پارٹی ٹکٹ دینے کا پیشکش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور جے اے سی کو علحدہ کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ جئے رام رمیش کی سازش سے ریاست کی تقسیم کے بعد ملازمین کی تقسیم میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم میں اہم رول ادا کرکے سیما آندھرا کے حق میں فیصلے کا جئے رام رمیش پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمیش کے بیانات سے تلنگانہ عوام کانگریس کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مفاہمت کے بارے میں فیصلہ کیشو راؤ کی قیادت میں تشکیل شدہ کمیٹی کریگی۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے بعد حیدرآباد پہنچتے ہی جئے رام رمیش نے خود کو متحدہ آندھرا کا حامی قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ تلنگانہ کے حق میں نہیں ہیں۔ اس طرح ان کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس طاقتور موقف رکھتی ہے اور اسے کانگریس کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ ٹی آر ایس تلنگانہ عوام کی پارٹی ہے اور ان کے دلوں میں بستی ہے۔ اگر کانگریس مفاہمت نہ بھی کرے تو اس کے ٹی آر کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کانگریس قائدین عوام کے درمیان پارٹی کا ایجنڈہ پیش کرسکتے ہیں لیکن انہیں ٹی آر ایس کی توہین کا کوئی حق نہیں۔

TOPPOPULARRECENT