Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس پارٹی میں سینکڑوں قائدین و کارکن نامزد عہدوں سے محروم

ٹی آر ایس پارٹی میں سینکڑوں قائدین و کارکن نامزد عہدوں سے محروم

دیگر جماعتوں کے قائدین کو عہدوں کی ترجیح، صدورنشین والے اداروں میں بورڈ آف ڈائرکٹرس نظرانداز
حیدرآباد۔/10 جون، ( سیاست نیوز) حکومت نے مختلف سرکاری اداروں پر تقررات تو کئے ہیں لیکن ان تقررات سے پارٹی کے صرف چند قائدین کو فائدہ ہوا جبکہ قائدین اور کارکنوں کی اکثریت آج بھی اہم عہدوں سے محروم ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دیگر جماعتوں سے شامل ہونے والے قائدین اور پارٹی کے قیام سے وابستہ قائدین کو مختلف سرکاری اداروں پر نامزد کیا ہے۔ مختلف کارپوریشنوں، بورڈز اور کمیٹیوں کے صدورنشین کی حیثیت سے تقررات کئے گئے لیکن ابھی تک ان اداروں کے بورڈ آف ڈائرکٹرس اور ارکان کا تقرر نہیں کیا گیا جس کے باعث پارٹی سے وابستہ قائدین اور کارکنوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ دیگر طبقات کی طرح اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال سے دوچارہیں۔ 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام سے وابستہ کئی قائدین ایسے ہیں جنہیں آج تک نہ ہی پارٹی اور نہ سرکاری اداروں میں کوئی موقع دیا گیا۔ اس کے برخلاف دیگر جماعتوں سے شامل ہونے والے قائدین کو سرکاری عہدے دیئے گئے اور کئی عہدے ایسے ہیں جن پر ابھی تک تقررات نہیں ہوئے۔ چیف منسٹر نے حالیہ عرصہ میں 10 کارپوریشنوں کے صدورنشین کا تقرر کیا جن میں 5 مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔ سٹ ون، اقلیتی فینانس کارپوریشن، تلنگانہ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، نیڈ کیاپ اور کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ کے صدور نشین کی حیثیت سے مسلم قائدین کا تقرر کیا گیا لیکن بورڈ آف ڈائرکٹرس کے ارکان کا تقرر باقی ہے۔ گزشتہ تقریباً تین ماہ سے پارٹی کے قائدین کم از کم بورڈ آف ڈائرکٹرس میں اپنے لئے امکانات تلاش کررہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طبقہ کے قائدین نے اس سلسلہ میں مختلف وزراء سے نمائندگی کی تاکہ بنیادی سطح پر پارٹی کیلئے سرگرم کارکنوں کی ناراضگی کو دور کیا جاسکے۔ ایسے کارکنوں کو کم از کم بورڈ آف ڈائرکٹرس میں شامل کرتے ہوئے انہیں شناخت دی جاسکتی ہے۔ اقلیتی اداروں میں بعض پر ابھی تک تقررات نہیں کئے گئے جس کے لئے برسراقتدار پارٹی کے کئی قائدین سرگرمی سے پیروی میں مصروف ہیں۔ اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور اقلیتی کمیشن پر تقررات ابھی باقی ہیں۔ حکومت نے تین سال مکمل کرلئے لیکن کئی اہم اداروں پر تقررات عدم تقررات کے سبب پارٹی کیڈر میں بے چینی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT