Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس پر بلیک منی کو وائٹ کرنے کا الزام مسترد

ٹی آر ایس پر بلیک منی کو وائٹ کرنے کا الزام مسترد

کالے دھن کا دوسرا نام کانگریس ، ٹی آر ایس ایم ایل سی کے پربھاکر کا بیان
حیدرآباد۔18 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے کانگریس کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ بلیک منی کو وائٹ میں تبدیل کرنے کے لئے برسر اقتدار پارٹی کے قائدین مصروف ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹی آر ایس رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ ملک میں کالے دھن کا دوسرا نام کانگریس پارٹی ہے اور اس حقیقت سے ملک کا ہر شہری واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالے دھن پر کانگریس پارٹی اپنے موقف کی وضاحت کئے بغیر دوسری جماعتوں سے موقف ظاہر کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جو مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں مرکز اور ریاست میں کئی بڑے اسکامس منظر عام پر آئے۔ کانگریس قائدین بدعنوانیوں، اسکامس میں غرق ہیں لیکن آج وہ ٹی آر ایس اور اس کے قائدین پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کرنسی اور کالے دھن کے مسئلہ پر واضح موقف رکھتے ہیں اور وہ مرکزی حکومت سے اپنا موقف واضح کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے کرنسی کی تنسیخ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے تمام محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی بڑے نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر نے اس سلسلہ میں پارٹی کے موقف کی وضاحت کردی ہے۔ ای راجندر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کرنسی مسئلہ پر رائے حاصل کرنے کے لئے کے سی آر کو نئی دہلی آنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے محمد علی شبیر پر الزام عائد کیا کہ وہ حقائق کو جانے بغیر ہی بیان بازی کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ من مانی اور بے بنیاد الزام تراشی کا سلسلہ بند کریں اور عوامی مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لئے تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے نریندر مودی سے ملاقات کا وقت لینے کے لئے کے سی آر کی جانب سے جدوجہد کرنے کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ کالا دھن کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی کا موقف غیر واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس پارٹی کالے دھن کے خلاف ہے تو پھر وہ ممتا بنرجی اور کیجروال کے ساتھ احتجاج میں شامل کیوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار نے نریندر مودی کے فیصلے کی تائید کی۔ اس کے باوجود نتیش کمار وزارت نے کانگریس کے وزراء کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جو کانگریس کے دہرے معیار کا کھلا ثبوت ہے۔ پربھاکر نے کانگریس کی رکن اسمبلی ڈی کے ارونا کے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ چیف منسٹر بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ جس وقت ڈی کے ارونا وزارت میں تھیں، وہ کئی بے قاعدگیوں میں ملوث رہیں اور وہ مقدمات کا سامنا کررہی ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ٹی آر ایس پارٹی کرنسی نوٹ کے مسئلہ پر اپنی حکمت عملی طے کرے گی۔ تلنگانہ عوام کی مشکلات اور ان کے خیالات کو وزیراعظم سے واقف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ کسی بھی ناانصافی کو ٹی آر ایس ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ پربھاکر نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور ٹی آر ایس پر الزام تراشی سے قبل اپنا محاسبہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT