Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس پر پچھلے دروازے سے جامعات میں داخلہ کا الزام

ٹی آر ایس پر پچھلے دروازے سے جامعات میں داخلہ کا الزام

یونیورسٹیز کے چانسلرس کے تقررات کی کوشش کی پردیش کانگریس کی جانب سے مذمت
حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے یونیورسٹیز کے اندرونی معاملت میں مداخلت کے لیے حکومت کی جانب سے چانسلرس کے تقررات کی کوشش کی مذمت کی اور جی او 29 ، 28 ستمبر کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ ڈاکٹر شرون کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت یونیورسٹیز کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے یونیورسٹیز میں پچھلے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کررہی ہے ۔ حکومت تعلیم کو بھی سیاست سے جوڑتے ہوئے اپنے من پسند افراد کو بحیثیت چانسلرس تقررات کرنے کی سازش کررہی موجودہ قوانین کو ختم کرنے کے لیے نئے جی او 29 ، 28 کی اجرائی عمل میں لائی ہے ۔ جس کے ذریعہ حکومت یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر کرنا چاہتی ہے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم اجرائی سے کئی یونیورسٹیز مالی بحران کا شکار ہے ۔ حکومت مالی بحران دور کرنے کے بجائے چانسلرس ، وائس چانسلرس کا تقرر کرتے ہوئے انہیں آفس ، عملہ ، کار ، بنگلہ کے علاوہ دوسری سہولتیں فراہم کرتے ہوئے یونیورسٹیز پر زائد مالی بوجھ عائد کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت تعلیمی نصاب سے بھی چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اپنے من پسند واقعات کو نصابی تعلیم کا حصہ بناتے ہوئے طلبہ کو جھوٹی اور بے بنیاد معلومات فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ تحریک تلنگانہ کے علمبردار پروفیسر جئے شنکر پروفیسر کودنڈا رام اور انقلابی شاعر غدر کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے کارناموں کو نصابی تعلیم میں شامل کررہے ہیں۔ ترجمان اعلیٰ کانگریس نے کہا کہ ماہرین تعلیم کو نظر انداز کر کے اپنے بیروزگار حامیوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے وائس چانسلرس کی حیثیت سے تقرر کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT