Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس ڈوبتی کشتی ۔ 2019 میں کانگریس اقتدار یقینی : اتم کمار ریڈی

ٹی آر ایس ڈوبتی کشتی ۔ 2019 میں کانگریس اقتدار یقینی : اتم کمار ریڈی

اواخر جنوری میں راہول گاندھی کے دورہ کا امکان ۔ بس یاترا کے آغاز کا اعلان ۔ صدر پردیش کانگریس کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔8 جنوری ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس کو ڈوبتی کشتی قرار دیا ۔ سنکرانتی کے بعد کانگریس کی الیکشن ٹیم تیار کرنے اور بہت جلد بس یاترا شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ ابھی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو 70 سے زائد اسمبلی حلقوں پرکانگریس کی بھاری اکثریت سے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ۔ جاریہ ماہ کے اواخر میں راہول گاندھی کے دورہ تلنگانہ کی توقع کا اظہار کیا ۔ دوسری میعاد کیلئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نامزد ہونے کے بعد آج پہلی مرتبہ اُتم کمار ریڈی گاندھی بھون پہنچے جہاں انکے حامیوں نے خیرمقدم کیا ۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس 2019ء بہرصورت میں تلنگانہ اور مرکز میں صدر کانگریس راہول گاندھی کی قیادت میں حکومت تشکیل دے گی ۔ انہوں نے ٹی آر ایس کو ڈوبتی ہوئی کشتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کے بشمول دوسری جماعتوں کے اہم قائدین کانگریس سے رابطے میں ہیں اور وہ تمام سنکرانتی کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ اُتم کمار ریڈی نے دوسری جماعتوں کے قائدین مشروط کانگریس میں شامل ہونے کی تردید کی اور کہا کہ وہ سب ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے رضاکارانہ طور پر کانگریس میں شامل ہورہے ہیں ۔ تمام سروے کانگریس کے حق میں ہیں ‘ ابھی انتخابات کرائے جاتے ہیں تو آسانی سے کانگریس 70سے زائد حلقوں پر کامیابی حاصل کریگی ۔ اگر تاخیر ہوتی ہے تو کانگریس کی نشستوں میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ تمام کانگریس قائدین بہت جلد بس یاترا کا اہتمام کریں گے ۔ ایک دن میں تین اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو اُجاگر کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کیڈر اور عوام میں ٹی آر ایس حکومت کے خلاف لہر پائی جاتی ہے ۔ اس کا اندازہ چیف منسٹر کے سی آر کو ان کی جانب سے کرائے گئے سروے میں ہوگیا ہے ۔ کوئی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ سنکرانتی کے بعد نئی پردیش کمیٹی تشکیل دی جائیگی جس میں 13 نائب صدور ‘33جنرل سکریٹریز اور اسمبلی حلقہ کیلئے ایک کے حساب سے سکریٹریز کا انتخاب کیا جائیگا ۔ موجودہ کمیٹی میں کام کرنے والے قائدین کو ہٹا دیا جائیگا ان کی جگہ نئے قائدین کو ذمہ داری سونپی جائیگی ۔ اس کے علاوہ ایک منشور کمیٹی ‘ ایک پبلسٹی کمیٹی تشکیل دی جائیگی ۔ ساتھ ہی ریاست کے قائدین کو اے آئی سی سی اور سی ڈبلیو سی میں مناسب نمائندگی فراہم کی جائیگی ۔ صدر کانگریس راہول گاندھی جنوری کے اواخر یا فبروری کے پہلے ہفتہ میں تلنگانہ کا دورہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقوں پر نظرثانی کے معاملہ میں کانگریس پارٹی اپنے موقف کا اظہار کریگی ۔ اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ پنچایت راج کے نئے قانون میں وارڈس ممبرس کے ذریعہ سرپنچس کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس قانون سے انحراف سیاست کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ کے سی آر نے اب تک ریاست میں جو کیا ہے کل گاؤں میں بھی وہی پالیسی دہرانے کے قومی امکانات ہیں ۔ اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں خواتین کی کافی اہمیت ہے ۔ پارٹی کیلئے محنت سے کام کرنے والی خواتین کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں وزارت میں خواتین کو شامل نہیں کیا گیا ہے ‘ یہاں تک کونسل میں سوائے کانگریس کے دوسری جماعتوں سے کوئی خاتون رکن بھی نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT