Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کا این ڈی اے سے خوشگوار تعلقات رکھنا کیوں ضروری

ٹی آر ایس کا این ڈی اے سے خوشگوار تعلقات رکھنا کیوں ضروری

آبپاشی پراجکٹس ، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کیلئے مرکزی حکومت کا تعاون ناگزیر ۔ کے سی آر ،مودی ۔ بابو قربت پر فکر مند

آبپاشی پراجکٹس ، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کیلئے مرکزی حکومت کا تعاون ناگزیر ۔ کے سی آر ،مودی ۔ بابو قربت پر فکر مند

حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ملک کی29 ویں ریاست تلنگانہ میں کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس پہلی حکومت تشکیل دینے والی ہے ۔ ریاست میں مسلم رائے دہندوں اور ان کی تائید کو ذہن میں رکھتے ہوئے کے سی آر نے بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے میں شامل ہونے سے گریز کیا اور انہیں اپنی اس حکمت عملی کا بھر پور فائدہ بھی حاصل ہوا ۔ این ڈی اے سے دوری کے نتیجہ میں مسلمانوں نے ٹی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹوں کا استعمال کیا جس کے باعث اسے 119 رکنی اسمبلی میں 63 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس طرح اب اسے تشکیل حکومت کے لیے کسی پارٹی کی تائید و حمایت درکار نہیں ۔ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے سے فاصلہ اختیار کرنے پر ہی کے سی آر کی پارٹی کو ریاست کے 17 میں سے 11 پارلیمانی حلقوں میں کامیابی ملی ہے ۔ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے باوجود کے سی آر اور ٹی آر ایس کو کئی ایک چیلنجس کا سامنا ہے ۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بی جے پی حلقوں میں ٹی آر ایس کے تئیں برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے اس لیے کہ پارٹی کے ریاستی و مرکزی قائدین کو اس بات کی امید تھی کہ انتخابات سے قبل کے سی آر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کردیں گے جس کے نتیجہ میں بی جے پی نئی ریاست تلنگانہ میں خود بخود دوسرے نمبر پر آجائے گی

اور اہم اپوزیشن کا رول ادا کرے گی لیکن کے سی آر نے ایک شاطر سیاستداں کی طرح نہ صرف پارٹی کو مسلمانوں سے قریب کیا بلکہ بی جے پی سے فاصلہ رکھتے ہوئے ریاست میں نہ صرف کانگریس کی نیا ڈبو دی بلکہ بی جے پی کو 5 حلقوں تک ہی محدود رکھدیا ۔ لیکن انتخابی نتائج کے بعد یہ سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ نریندر مودی اور ان کی حکومت اپنے حلیف چندرا بابو نائیڈو کی خاطر سیما آندھرا کے لیے اضافی خصوصی معاشی پیاکیج کو منظوری دیں گے ۔ اس طرح مستقبل میں بی جے پی کو سیما آندھرا میں طاقتور بنانے کے لیے اس ریاست کی ہر لحاظ سے مدد کی جائے گی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے سیما آندھرا کو سنگاپور اور دوبئی کی طرز پر ترقی دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس وعدہ کو این ڈی اے حکومت کی مدد سے پورا بھی کر دکھائیں گے تاکہ وہاں وائی ایس آر سی کو کوئی مواقع حاصل نہ ہوسکیں ۔ اس کے برخلاف اس بات کے امکانات نظر نہیں آتے کہ مودی تلنگانہ کی سیما آندھرا کی طرح مدد کریں ۔ اس لیے کہ کے سی آر کی بی جے پی سے دوری سے بی جے پی قائدین سخت نالاں ہیں اس کے باوجود نئی ریاست کو درپیش چیلنجس کے پیش نظر ٹی آر ایس نے مرکزی حکومت سے دوستانہ تعلقات رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ کے سی آر کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ چندرا بابو نائیڈو مودی سے اپنی قربت کا سیاسی فائدہ حاصل کرتے ہوئے 10 برس تک حیدرآباد کے مشترکہ دارالحکومت دینے سے متعلق موقف کو تبدیل کروانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ جب کہ حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ یا دوسرا قومی دارالحکومت بنائے جانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو حیدرآباد کو دوسرا قومی دارالحکومت بنائے جانے کے خواہاں ہے اور کے سی آر ہرگز چندرا بابو کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے ۔ کے سی آر مودی سے چندرا بابو کی قربت کو لے کر بھی فکر مند ہے کیوں کہ مودی اور بابو کی دوستی سے تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

واضح رہے کہ چندرا بابو نائیڈو مودی کی غیر معمولی مدح سرائی کررہے ہیں ۔ حلقہ اسمبلی چندرا گیری سے کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے ہوئے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کرنے والے 64 سالہ چندرا بابو نائیڈو کا کہنا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بی جے پی کو 300 نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی تھی جب کہ خود بی جے پی قائدین کو یقین نہیں تھا کہ ان کی پارٹی 250 نشستیں بھی حاصل کرپائے گی ۔ چندرا بابو نائیڈو کے اس اعلان سے بھی کے سی آر کی فکر میں اضافہ ہوا کہ تلگو دیشم این ڈی اے حکومت میں شامل ہو کر مثبت رول ادا کرے گی اور مودی کی قیادت میں ملک میں ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ نریندر مودی نے معتمد داخلہ سے نصف گھنٹے تک جو بات چیت کی ہے اس میں سیما آندھرا کو دئیے جانے والے خصوصی پیاکیج میں اضافہ اور انسداد دہشت گردی کا نیا قانون موضوع بحث رہا ۔ لیکن انہوں نے تلنگانہ کا تذکرہ کرنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ دوسری طرف ریاستی گورنر مسٹر نرسمہن کا رویہ بھی چندرا بابو نائیڈو اور کے سی آر کے تئیں بالکل مختلف رہا ۔ ان تمام حالات سے یہی سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ ٹی آر ایس کا این ڈی اے سے مل کر رہنا کتناضروری ہے ۔ کے سی آر چاہیں گے کہ حیدرآباد کا موقف کسی بھی طرح تبدیل نہ کیا جائے دوسری اہم بات یہ ہے کہ پرانہیتالہ ۔ چیوڑلہ پالامور آبپاشی پراجکٹس کو خصوصی درجہ دلانے کا بھی کے سی آر عزم رکھتے ہیں ۔ اسی طرح ریاست کے دیگر آبپاشی پراجکٹس کے فروغ تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں اب تک روا کھی گئی نا انصافیوں کا خاتمہ کروانا بھی کے سی آر کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا ۔ نائیڈو مودی پر اثر انداز ہوتے ہوئے کرشنا اور گوداوری سے جو تلنگانہ کی دو بڑی ندیاں ہیں ۔ آندھرا کے لیے زیادہ پانی مختص کروائیں گے جب کہ کرشنا اور گوداوری میں بالترتیب 68.5 فیصد اور 10 فیصد طاس کا حصہ تلنگانہ میں ہے لیکن آج کی تاریخ تک ان آبی ذخائر کے زیادہ سے زیادہ پانی سے رائلسیما کو سیراب کیا جاتا رہا جب کہ اپنی ملکیت ہونے کے باوجود تلنگانہ والے اس پانی سے محروم ہی رہے ۔ کے سی آر اس چیلنج سے بھی نمٹنے کی کوشش کریں گے ۔ دوسری طرف سوائے حیدرآباد تلنگانہ کے تمام اضلاع انتہائی پسماندہ ہے ۔

یہاں تعلیمی ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے جب کہ آندھرا والوں نے کڑپہ وشاکھاپٹنم وجئے واڑہ اور نیلور کو ہمیشہ سے اہمیت دی ہے ۔ اس کے علاوہ اس علاقہ میں حضور نظام کے دور میں قائم کردہ صنعتوں کو منظم سازش کے تحت بند کردیا گیا ۔ نتیجہ میں صنعتی پیداوار متاثر ہوئی مینوفکچرنگ تجارت اور اگرو پروسنگ کے شعبوں پر توجہ کے ساتھ ساتھ ریاست میں سرمایہ کاری انفراسٹرکچر کے سیکٹر کو بھی فروغ دینا ضروری ہے ۔ ان حالات میں سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ کے سی آر این ڈی اے حکومت سے قربتیں بڑھائیں گے کیوں کہ یہاں تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کا معاملہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کے سی آر این ڈی اے سے قربتیں بڑھا کر تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے یا پھر ٹکراو کی راہ اختیار کریں گے ۔ توقع یہی ہے کہ تلنگانہ کے لیے فنڈس کے حصول کی خاطر کے سی آر این ڈی اے حکومت سے تعلقات بہتر رکھیں گے لیکن انہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ان کی جیت مسلمانوں کی مرہون منت ہے اور انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 12 فیصد تحفظات اور کسی مسلم قائدکو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کا تیقن دیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT