Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کا پلینری اجلاس عوام کیلئے بے فیض

ٹی آر ایس کا پلینری اجلاس عوام کیلئے بے فیض

تلنگانہ میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ ندارد، اجلاس کے نام فائیو اسٹار پکوان، محمد علی شبیر کی تنقید

تلنگانہ میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ ندارد، اجلاس کے نام فائیو اسٹار پکوان، محمد علی شبیر کی تنقید
حیدرآباد ۔ 25 اپریل (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس کے پلینری سیشن کو عوام کیلئے بے فیض قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح روم جلتے وقت وہاں کا بادشاہ بانسری بجا رہا تھا اسی طرح تلنگانہ میں ہر 10 گھنٹے کو ایک کسان خودکشی کررہا ہے تو پلینری سیشن میں فائیو اسٹار پکوان کے ذریعہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ جشن منا رہے ہیں۔ پلینری سیشن کے سی آر کے بھجن منڈلی میں تبدیل ہوجانے کا الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کے 11 ماہ بعد پہلی مرتبہ پلینری سیشن منعقد ہورہا ہے، جس سے عوام، بیروزگار نوجوان، خواتین، اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور کسانوں میں کافی امیدیں پیدا ہوئی تھی مگر اس پلینری سیشن سے نہ تو کسانوں کو خودکشی کرنے کا پیغام دیا گیا ہے نہ ہی مسلمانوں اور قبائیلوں کو بھروسہ دلایاگیا، کیلئے 12 فیصد تحفظات کیا جائے گا۔ تمام قائدین کے سی آر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے پلینری سیشن کو کے سی آر کے بھجن منڈلی میں تبدیل کردیا گیا۔ تشویش کی بات یہ ہیکہ تلنگانہ میں ابھی تک 939 کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ حکومت نے اسمبلی میں تلنگانہ 352 منڈل میں معمول سے کم بارش ہونے کی رپورٹ پیش کی ہے۔ تاہم انہیں خشک سالی سے متاثرہ منڈل قرار نہ دینے کی وجہ سے مرکز کے امداد سے محروم ہوگئے ہیں۔ عوامی مسائل کو حل کرنے اور منشور کے تمام وعدوں کو پورا کرنے کا عوام کو یقین دلانے کے بجائے پلینری سیشن میں بھیجہ، پایہ، بوٹی کباب، چکن بریانی کے علاوہ دیگر مرغن غذاؤں کا اہتمام کرتے ہوئے جشن منایا گیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ روم کے باشاہ کی تقلید کرتے ہوئے ان پر بھروسہ کرنے والے عوام کو مایوس کردیا ہے۔ پلینری سیشن میں تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ صرف کسانوں کے ارکان خاندان اور مخالفین تلنگانہ کو اہمیت دی گئی۔ ہریش راؤ کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ ایک ڈپٹی چیف منسٹر نے حد کردی کے سی آر کو مہاتما قرار دیا، شاید مہاتما کس کو کہتے ہیں انہیں اس کا علم نہیں۔ جدوجہد آزادی کی تحریک چلانے والے گاندھی جی آزادی کے بعد کوئی عہدہ نہیں لیا۔ تلنگانہ کی تحریک چلانے والے کے سی آر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے پر دلت کو چیف منسٹر بننے کا وعدہ کیا مگر خود چیف منسٹر بن گئے اور اپنے تمام ارکان خاندان کو وزارت اور ایوانوں کی نمائندگی سے نوازا ہے۔ سونیا گاندھی کے تعاون کے بغیر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل ناممکن تھی۔ تاہم افسوس اس بات کا ہیکہ سونیا گاندھی کی ستائش کرنے کے بجائے کانگریس کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کے سی آر بھول رہے ہیں کہ وہ کانگریس کے پروڈیکٹ ہے۔

TOPPOPULARRECENT