Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ٹی آر ایس کو مسلمانوں کے متحدہ ووٹ نہ ملتے تو تصویر کچھ اور ہوتی

ٹی آر ایس کو مسلمانوں کے متحدہ ووٹ نہ ملتے تو تصویر کچھ اور ہوتی

سنگاریڈی ۔ 18 ۔ ستمبر ( ایم اے قادر فیصل ) حلقہ پارلیمنٹ میدک ( لوک سبھا ) پر ٹی آر ایس پارٹی نے اپنا قبضہ برقرار رکھا اور پربھاکر ریڈی نے جملہ 5 لاکھ 71 ہزار 810 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 3 لاکھ 61 ہزار 286 ووٹوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔ حلقہ پارلیمنٹ میدک کے ضمنی انتخاب میں 67.9 فیصد پولنگ ہوئی یعنی جملہ 15 لاکھ 43 ہزار 575 ووٹوں میں سے 10

سنگاریڈی ۔ 18 ۔ ستمبر ( ایم اے قادر فیصل ) حلقہ پارلیمنٹ میدک ( لوک سبھا ) پر ٹی آر ایس پارٹی نے اپنا قبضہ برقرار رکھا اور پربھاکر ریڈی نے جملہ 5 لاکھ 71 ہزار 810 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 3 لاکھ 61 ہزار 286 ووٹوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔ حلقہ پارلیمنٹ میدک کے ضمنی انتخاب میں 67.9 فیصد پولنگ ہوئی یعنی جملہ 15 لاکھ 43 ہزار 575 ووٹوں میں سے 10 لاکھ 46 ہزار 80 ووٹ ڈالے گئے ۔ جبکہ اسی سال ماہ اپریل میں منعقدہ عام انتخابات میں تقریباً 77.5 فیصد ووٹنگ ہوئی اور جملہ 11 لاکھ 93 ہزار 542 ووٹ ڈالے گئے ۔ گزشتہ عام انتخابات میں ضمنی انتخاب کے مقابل 9.5 فیصد ووٹنگ زیادہ ہوئی تھی ۔ یعنی 1 لاکھ 47 ہزار 468 ووٹنگ زیادہ ہوئی تھی ۔ اس مرتبہ ووٹنگ 9.5 فیصد کم ہونے کی وجہ سے ٹی آر ایس پارٹی کی اکثریت میں کمی کی پیش قیاسی کی گئی تھی جو غلط ثابت ہوئی اور ٹی آر ایس نے 3.61 لاکھ کی زبردست اکثریت حاصل کی ۔ اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی ٹی آر ایس کے حق میں متحدہ ووٹنگ ہے ۔ حلقہ پارلیمان میدک کے تقریباً 2 لاکھ ووٹرس نے ٹی آر ایس کی تائید کی جس کے باعث ٹی آر ایس پارٹی امیدوار کی اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی ممکن ہوئی ۔ حلقہ پارلیمنٹ کے نتیجہ کا جائزہ لیا جائے تو ٹی آرایس کی طاقت اور مضبوط ہونے کا تو پتہ چلتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس حلقہ میں بی جے پی کی رسائی بھی بڑھنے کے صاف اور واضح اشارے مل رہے ہیں جو سیکولر ووٹرس اور سیاسی جماعتوں کیلئے لمحہ فکر ہونا چاہئے ۔ حلقہ پارلیمنٹ میدک میں گزشتہ عام انتخابات میں ٹی آر ایس نے 6 لاکھ 57 ہزار 492 ووٹ حاصل کئے جو 56 فیصد تھے جبکہ کانگریس نے 22 فیصد اور بی جے پی نے 15 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اس مرتبہ ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس امیدوار پربھاکر ریڈی نے 5,71,800 ووٹ حاصل کئے جو 54.6 فیصد ہے ۔ کانگریس امیدار سنیتا لکشما ریڈی نے 2,10,524 ووٹ حاصل کئے جو 20.1 فیصد ہے اور بی جے پی امیدوار ٹی جئے پرکاش ریڈی ( جگاریڈی ) نے 1,86,343 ووٹ حاصل کئے جو 17.8 فیصد ووٹ ہوتے ہیں ۔ گزشتہ عام انتخابات میں اسمبلی حلقوں کو دیکھا جائے تو حلقہ اسمبلی سدی پیٹ میں ایم پی کیلئے ٹی آر ایس کو 1,06,759 ، کانگریس کو 12,108 ، بی جے پی کو 19,970 ووٹ ملے تھے اور ٹی آر ایس کو 86,789 ووٹوں کی اکثریت ملی تھی جبکہ اس ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو 76,733 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی ۔ حلقہ اسمبلی میدک میں گزشتہ مرتبہ ٹی آر ایس کو 91,979 ، کانگریس کو 39,532 اور بی جے پی کو 14.93 ووٹ ملے تھے اور ٹی آر ایس کو 52.447 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی تھی جبکہ اس مرتبہ ٹی آر ایس کو 41,305 ووٹوں کی اکثریت ملی حلقہ اسمبلی دوباک میں ٹی آر ایس کو 88,710 ، بی جے پی کو 16,939 ، کانگریس کو 32,710 ووٹ ملے اور ٹی آر ایس کو 56 ہزار کی اکثریت حاصل ہوئی جبکہ اس مرتبہ ٹی آر ایس کو 67,366 ووٹوں کی بھاری اکثریت حاصل ہوئی ۔ حلقہ اسمبلی گجویل میں گزشتہ مرتبہ ٹی آر ایس کو 1,01,362 ووٹ ، کانگریس کو 33,526 ، بی جے پی کو 47,482 ووٹ اور ٹی آر ایس کو 53,880 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی تھی اس مرتبہ بھی ٹی آر ایس51,033 ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ حلقہ اسمبلی نرساپور میں ٹی آر ایس نے 87,986 ، کانگریس نے 65,302 ، بی جے پی نے 7220 ووٹ حاصل کئے اور ٹی آر ایس نے 22680 ووٹوں کی اکثریت حاصل کی جو اس مرتبہ گھٹ کر 6443 ہوگئی ۔ حلقہ اسمبلی پٹن چیرو میں ٹی آر ایس نے 90,520 ، کانگریس 37460 اور بی جے پی نے 53,735 ووٹ لئے اور ٹی آر ایس کو 36,785 ووٹوں کی اکثریت ہوئی جو اس ضمنی چناؤ میں بڑھ کر 245 ہوگئی۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں گزشتہ عام انتخابات میں یم پی کیلئے ٹی آر ایس کو 88,168 کانگریس کو ، 39,561 اور بی جے پی کو 20,888 ووٹ حاصل ہوئے ۔ ٹی آر ایس کو 48,607 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی تھی

اور اس مرتبہ یہ اکثریت کم ہو کر صرف 8,849 ووٹ رہ گئی ۔ مندرجہ بالا اکثریت ایم پی نشست کی ہے ۔ ایم ایل ایز کی اکثریت الگ ہے ۔ اس ضمنی چناو میں ٹی آریس کو گزشتہ کے مقابل بظاہر 36 ہزار ووٹ کم ملے لیکن پول شدہ ووٹس کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ اور اس مرتبہ کوئی بڑا فرق نہیں ہے ۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی : حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں اس مرتبہ کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو 69,474 ووٹ ، بی جے پی کو 50,625 اور کانگریس کو 14,227 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ماہ اپریل کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس کو 88,168 ، کانگریس کو 39,561 اور بی جے پی کو 20,868 ووٹ ملے تھے اور ٹی آر ایس ایم پی امیدوار کو حلقہ اسمبلی سنگاریڈی سے 48,607 ووٹوں کی زبردست اکثریت حاصل ہوئی جبکہ گذشتہ عام انتخابات میں حلقہ اسمبلی سنگاریڈی سے ایم ایل اے نشست کیلئے ٹی آر ایس کو 82,860 ، کانگریس کو 53,333 اور بی جے پی کو 11,914 ووٹ ملے تھے اور حلقہ اسمبلی سنگاریڈی سے ٹی آر ایس امیدوار چنتا پربھاکر نے 29,527 ووٹوں کی اکثریت حاصل کی تھی ۔ صرف 5 ماہ کے بعد منعقدہ ضمنی انتخاب میں اس حلقہ میں ٹی آر ایس کی اکثریت میں کمی واقع ہوئی ہے جس کا جائزہ ٹی آر ایس پارٹی اور رکن اسمبلی دونوں کو لینا چاہئے ۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں گزشتہ کے مقابل 7.83 فیصد کم پولنگ ہوئی یعنی تقریباً 17 ہزار ووٹ کم پول ہوئے ۔ ٹی آر ایس کی اکثریت میں کمی کی ایک وجہ کم پولنگ ہوسکتی ہے لیکن کم پولنگ پر ہی مکمل ذمہ داری عائد کرنا غلط ہے ۔ ٹی آر ایس پارٹی میں دیگر پارٹیوں سے کثیر تعداد میں قائدین و کارکنوں نے شرکت کی اس کا کتنا فائدہ ہوا اس کا بھی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں گزشتہ کے مقابل ایم پی نشست کیلئے 29,758 ووٹوں کی اکثریت کم اور ایم ایل اے نشست کے تناظر میں دیکھیں تو 10,678 ووٹوں کی اکثریت ٹی آر ایس پارٹی کو ملی ہے ۔ بی جے پی نے اس مرتبہ 50,625 ووٹ حاصل کئے ہیں ۔ سنگاریڈی ٹاون میں ٹی آر ایس کو کم و بیش ایک ہزار اور سداسیو پیٹ ٹاون میں دو ہزار سے کچھ زائد ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی ۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں مسلمانوں نے متحدہ طور پر ٹی آر ایس کو ووٹ دیا ۔ مسلم ووٹ ٹی آر ایس کو متحدہ طو رپر نہ ملتے تو اس حلقہ کے نتیجہ کی تصویر کچھ اور ہوتی ۔ حلقہ سنگاریڈی میں کانگریس کمزور نظر آئی اور اس کو صرف 14,227 ووٹ حاصل ہوئے ۔ سنگاریڈی ٹاون میں بھی مظاہرہ قابل لحاظ نہیں رہا ۔ حلقہ سنگاریڈی میں بی جے پی کے بہتر مظاہرہ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ٹی آر ایس کو اس حلقہ بالخصوص سنگاریڈی ٹاون میں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT