Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کو ورنگل لوک سبھا انتخاب میں شکست کا خوف

ٹی آر ایس کو ورنگل لوک سبھا انتخاب میں شکست کا خوف

کے سی آر بوکھلاہٹ کا شکار، چیف منسٹر کی تقریر پر ایس جے پال ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد /18 نومبر (سیاست نیوز) سینئر کانگریس قائد و سابق مرکزی وزیر ایس جے پال ریڈی نے کہا کہ ورنگل میں ٹی آر ایس کی امکانی شکست کا خوف چیف منسٹر تلنگانہ کے چہرے سے ظاہر ہو رہا ہے۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے جھوٹ اور کبھی پورے نہ ہونے والے وعدے کرکے اقتدار حاصل کیا۔ انھوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست صدر کانگریس سونیا گاندھی نے دی، تاہم تلنگانہ تحریک کے باعث اس کا سیاسی فائدہ ٹی آر ایس کو ہوا۔ انھوں نے کل چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے تلنگانہ تحریک کے دوران مرکزی وزارت سے استعفی نہ دینے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مرکزی وزارت سے مستعفی ہو جاتے تو علحدہ تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد پر مشتمل تلنگانہ ریاست حاصل نہ ہوتی اور حیدرآباد کی 25 ہزار کروڑ آمدنی میں آندھرا پردیش بھی حصہ دار بن جاتا، کیونکہ مرکزی کابینہ میں سیما۔ آندھرا کے چار مرکزی وزراء موجود تھے اور حیدرآباد میں بحیثیت چیف منسٹر کرن کمار ریڈی سازش کر رہے تھے۔ انھوں نے اس کی سخت مخالفت کی اور لوک سبھا میں تلنگانہ بل کو منظور کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکمراں جماعت کے 11 ارکان پارلیمنٹ نے علحدہ ریاست کی تشکیل کے لئے 75 دن تک احتجاج کیا، جب کہ سربراہ ٹی آر ایس بل کی منظوری کے موقع پر لوک سبھا میں بھی موجود نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران بھوک ہڑتال کا اعلان کیا، تاہم دوسرے دن کھمم کے ہاسپٹل میں بغیر کسی دباؤ کے اپنے ارکان خاندان کی موجودگی میں شربت پی کر بھوک ہڑتال ختم کردی۔ انھوں نے میڈیا کو کے سی آر کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی ویڈیو کلپ دکھائی اور کہا کہ طلبہ اور دیگر تنظیموں کے احتجاج کے بعد دوبارہ بھوک ہڑتال کی، لیکن نمس میں یہ ہڑتال کس طرح جاری رہی وہ اس کو بعد میں منظر عام پر لائیں گے۔ جے پال ریڈی نے کہا کہ ورنگل میں حکومت کی کار کردگی سے عوام میں پائی جانے والی ناراضگی سے کے سی آر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اسی لئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرکے تنقیدیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد کے سی آر نے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے ملاقات کی اور بعد ازاں مجھ سے ملاقات کرتے ہوئے مجھے چیف منسٹر بن جانے کا مشورہ دیا، لیکن میں نے انھیں کانگریس میں شامل ہونے اور چیف منسٹر بننے کی پیشکش کی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ کانگریس ہائی کمان نے انھیں تلنگانہ تحریک کے دوران چیف منسٹر کے عہدہ کی پیشکش کی تھی، تاہم انھوں نے چیف منسٹر کا عہدہ قبول کرنے سے قبل تلنگانہ کا فیصلہ کرنے ہائی کمان کو مشورہ دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT