Thursday , December 13 2018

ٹی آر ایس کو چھوڑ کر حلیف اور اپوزیشن جماعتوں کے دفاتر پر اردو کا مذاق

حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تاہم جس اسمبلی میں اس کے لیے قانون سازی کی گئی اسی قانون ساز اسمبلی کے پارٹی دفاتر پر تحریر کردہ سائن بورڈ پر اردو زبان کا جنازہ نکال دیا گیا ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں سوائے ضلع کھمم کے تلنگانہ کے 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل پھر اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد ریاست کے تمام 31 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے ۔ لیکن موجودہ حالت میں ایسا لگ رہا ہے کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا گیا بلکہ اس کے ساتھ ظالمانہ مذاق کیا گیا ہے جس کا منھ بولتا ثبوت یہ ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر نصب کئے جارہے سرکاری دفاتر وغیرہ کے بورڈس پر یا تو اردو کو نظر انداز کیا جارہا ہے کہیں اردو تحریر بھی کی جارہی ہے تو اس میں املا کی کئی فاش غلطیاں پائی جارہی ہیں ۔ خود تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے مختص کردہ دفاتر کے سائن بورڈس پر مجرمانہ غفلت سے کام لیتے ہوئے اردو کا مذاق اڑایا گیا ہے ۔ اسمبلی کے احاطے میں مختلف سیاسی جماعتوں کانگریس ، تلگو دیشم ، بی جے پی اور مجلس کے لیے مختص کردہ لیجسلیچر پارٹی دفاتر پر جو سائن بورڈس نصب کئے گئے ہیں ان پر تلگو اور انگریزی میں تو درست لکھا گیا ہے لیکن اردو میں جو تحریر ہے وہ بالکل غلط ہے ۔ ان بورڈس پر ’ کانگریس مقننہ پارٹی آفس تلنگانہ ‘ کی بجائے ( کانگریس مخنّنا پارٹی آفئیس تلنگانا ) تحریر کیا گیا ہے ۔ اس طرح ’ بھارتیہ جنتا مقننہ پارٹی آفس تلنگانہ ‘ تحریر کرنے کے بجائے ( بھارتییا جنتا مخنّنا پارٹی آفیس تلنگانا ) تحریر کیا گیا ہے ۔ ’ تلگو دیشم مقننہ پارٹی آفس تلنگانہ ‘ کی بجائے ( تلگو دیشم مخنّنا پارٹی آفئیس تلنگانا ) تحریر کیا گیا ہے ۔ مجلس پارٹی کے دفتر پر ’ اے آئی ایم آئی ایم مقننہ پارٹی آفس تلنگانہ ‘ کے بجائے ( اے ائی ایم ائی مخنّنا پارٹی آفئیس تلنگانا ) تحریر کیا گیا ہے ۔ تعجب اور حیرت اس بات پر ہے کہ کانگریس ۔ تلگو دیشم اور بی جے پی میں کوئی اردو داں ارکان اسمبلی نہیں ہیں مگر مجلس کے 7 ارکان اسمبلی اردو جانتے اور پڑھتے ہیں مگر انہوں نے اردو کے ساتھ اسمبلی کے احاطہ میں کیے گئے ظالمانہ سلوک پر خاموش کیوں ہیں ؟ دوسری جماعتوں کے دفاتر پر اردو کے ساتھ جو مذاق اڑایا گیا ہے ۔ وہی سلوک ان کے پارٹی آفس کے سائن بورڈ کے ساتھ بھی کیا گیا ہے ۔ اردو کی موجودہ حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے اور غیر اس میٹھی اور با اثر زبان کا جنازہ بڑی دھوم سے اٹھا رہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT