Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی تاریخی کامیابی ’ عوامی کامیابی ‘ : محمود علی

ٹی آر ایس کی تاریخی کامیابی ’ عوامی کامیابی ‘ : محمود علی

پارٹی پر عوام نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ اپوزیشن کے الزامات بے بنیاد ثابت
حیدرآباد۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس امیدوار کی تاریخی کامیابی کو ’’عوامی کامیابی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ رائے دہندوں نے اپوزیشن جماعتوں کے مخالف حکومت الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تاریخی اکثریت کے ساتھ ٹی آر ایس امیدوار کو کامیابی دلاکر ورنگل کے عوام کو ٹی آر ایس حکومت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ محمد محمود علی نے ورنگل کے رائے دہندوں اور خاص طور پر اقلیتی رائے دہندوں سے اظہارِ تشکر کیا جنہوں نے اپوزیشن کی مہم کو ناکام بناتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ٹی آر ایس حکومت حقیقی معنوں میں عوامی حکومت ہے اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل صرف کے سی آر سے ممکن ہے۔ محمود علی نے اپوزیشن امیداروں کی ضمانت کے ضبط ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص کانگریس پارٹی نے کے سی آر اور حکومت کے خلاف جس انداز میں بے بنیاد الزامات عائد کئے تھے، عوام نے اپنے فیصلے کے ذریعہ انہیں موثر جواب دیا۔ انتخابی نتیجہ دراصل اپوزیشن کے منہ پر عوام کی جانب سے زبردست طمانچہ ہے جوکہ ووٹ کی شکل میں دیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے انتخابی مہم میں تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات عائد کئے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ٹی آر ایس حکومت مخالف عوام ہے اور اس نے انتخابی وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ محمود علی نے اپوزیشن کے الزامات میں کوئی سچائی نہیں تھی جس کا ثبوت عوام کا زبردست فیصلہ ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تاریخ میں ٹی آر ایس امیدوار کی یہ تاریخی کامیابی ہے اور آئندہ بھی کامیابی کا یہ تسلسل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے زوال کا خواب دیکھنے والی اپوزیشن جماعتوں کو اس فیصلے سے اپنے مقام کا اندازہ کرنا چاہئے۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے دور حکومت میں کئے گئے مخالف عوام اقدامات پر معذرت خواہی کریں اور محاسبہ کرتے ہوئے تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کریں۔ محمد محمود علی نے کہا کہ ورنگل میں کانگریس کے بعض قائدین نے چیف منسٹر کے خلاف غیراخلاقی اور غیرمعیاری زبان کا استعمال کیا تھا، لیکن عوام نے اپنے فیصلے کے ذریعہ نہ صرف انہیں سبق سکھایا بلکہ یہ واضح کردیا کہ جمہوریت اور انتخابی مہم میں غیراخلاقی اور غیرمعیاری مہم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بعض اقلیتی قائدین نے حکومت پر جو الزامات عائد کئے تھے، انہیں بھی عوامی فیصلہ سے جواب مل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اپنے قومی اور ریاستی قائدین بشمول اقلیتی قائدین کو انتخابی مہم میں جھونک دیا تھا لیکن ورنگل کے اقلیتوں میں کانگریس کے بہکاوے میں آئے بغیر ٹی آر ایس سے اپنے اٹوٹ وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ ورنگل کے باشعور رائے دہندے اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف ٹی آر ایس ہی اقلیتوں کی فلاح و بہبود میں سنجیدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT