Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی دو سالہ حکومت کی کارکردگی پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ

ٹی آر ایس کی دو سالہ حکومت کی کارکردگی پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ

بشمول چیف منسٹر تقریبا تمام وزراء وعدوں کی تکمیل میں ناکام ، محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 23 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت کی 2 سالہ کارکردگی پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا ۔ آج سی ایل آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر ٹی جیون ریڈی ، رکن قانون ساز کونسل مسٹر پی سدھاکر ریڈی بھی موجود تھے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کی جانب سے 99 فیصد اور وزراء کی جانب سے 100 فیصد انتخابی وعدوں کی تکمیل کرنے کے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے حکومت کی 2 سالہ کارکردگی پر وائیٹ پیپر جاری کرنے اور اس میں کونسی اسکیم و پالیسی کے لیے مختص کردہ اور خرچ کردہ بجٹ اور حاصل کردہ قرض اور مزید حاصل کئے جانے والے قرض کی صراحت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے ان دو سال کے دوران ڈیفکشن ، الیکشن اور سیلبریشن پر توجہ دی ہے ۔ دوسری جماعتوں کے منتخبہ سرپنچ تا رکن اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے اور الیکشن کرانے کو اہمیت دی ہے ۔ بتکماں کے علاوہ دوسری تقاریبوں کا سلیبریشن کرانے کو ترجیح دی ہے ۔ حکومت کی دو سالہ کارکردگی مایوس کن ہے ۔ سماج کا کوئی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ تمام محاذوں پر حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے نئے اضلاع کا مسئلہ چھیڑتے ہوئے اس کو متنازعہ بنادیا ہے ۔ نئے اضلاع کی کانگریس پارٹی خلاف نہیں ہے ۔ تاہم کوئی بھی کام منصوبہ بندی اور رہنمایانہ خطوط کے ساتھ انجام دینا چاہئے ۔ بغیر پلاننگ سے کئے جانے والے پروگرامس سے اضلاع کے عوام میں اختلافات بڑھ گئے ہیں اور مختلف اضلاع میں احتجاجی مہم میں شدت پیدا ہوگئی ہے حکومت نے اس معاملے میں اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی کل جماعتی اجلاس طلب کیا اور نا ہی ماہرین کی رائے حاصل کی ہے ۔ صرف من مانی کی اور کلکٹرس کی رپورٹس کو ہی اہمیت دی جارہی ہے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کا بحران چل رہا ہے حکومت کسانوں کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام ہے ۔ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے لوگ روزگار کے لیے نقل و مقام کررہے ہیں جانوروں کو چارہ نہیں مل پارہا ہے ۔ حکومت اپنی ناکامیوں پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نئے اضلاع کا متنازعہ شوشہ چھوڑا ہے ۔ کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ دو سال کے دوران ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا ۔ آئندہ سال مارچ تک تکمیل کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے جب کہ ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کے لیے 14000 کروڑ روپئے درکار ہے حکومت نے صرف 236 کروڑ روپئے جاری کیا ہے ۔ مسٹر پی سدھاکر ریڈی نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ اپوزیشن کے اٹھائے مسائل کو حل کرنے کے بجائے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT