Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی فلاحی و ترقیاتی اسکیمات مقبول

ٹی آر ایس کی فلاحی و ترقیاتی اسکیمات مقبول

پارٹی میں جبراً شمولیت کا الزام بے بنیاد ، وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ
حیدرآباد۔/4ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس میں دیگر جماعتوں کے قائدین کو جبراً یا ہراساں کرتے ہوئے شمولیت کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات سے متاثر ہوکر تلگودیشم اور کانگریس کے عوامی نمائندوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ سکریٹریٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے چھوٹے بچے یا معمولی سطح کے قائدین نہیں ہیں۔ جن قائدین نے شرکت کی وہ وزراء کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں اور انہیں عوامی خدمت کا وسیع تر تجربہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین سے چار مرتبہ منتخب ہونے والے قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور واضح کردیا کہ وہ کسی لالچ یا جبر سے نہیں بلکہ حکومت کی اسکیمات سے متاثر ہوکر شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار سیاستدانوں اور عوامی منتخب نمائندوں کو ہراساں کرنے کا الزام بے بنیاد ہے اور کوئی بھی اس پر بھروسہ نہیں کرے گا۔ کے ٹی آر نے تلگودیشم اور کانگریس قائدین کی شمولیت کی تائید کی اور کہا کہ ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں شمولیت کوئی نئی بات نہیں ہے سابق میں بھی اس طرح قائدین دیگر جماعتوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی فلاحی و ترقیاتی اسکیمات کے فوائد اپنے انتخابی حلقوں میں عوام تک پہنچانے کیلئے مختلف قائدین ٹی آر ایس کا رُخ کررہے ہیں۔ جمہوریت میں قائدین کو پارٹی تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر نے دیگر جماعتوں کے قائدین کا ٹی آر ایس میں استقبال کیا ہے۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں حیدرآباد کی ترقی کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT