Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی مختلف محاذی تنظیمیں انتخابی مہم میں سرگرم

ٹی آر ایس کی مختلف محاذی تنظیمیں انتخابی مہم میں سرگرم

کویتا کی تلنگانہ جاگرتی کو نمایاں اہمیت ، کے سی آر کی حکمت عملی کے سامنے دیگر جماعتیں بے بس
حیدرآباد۔ 17 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے تحریک تلنگانہ کے دوران قائم کی گئی مختلف محاذی تنظیمیں بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کیلئے سرگرم انتخابی مہم چلائیں گی؟ تحریک تلنگانہ کے دوران ٹی آر ایس نے نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ، ملازمین، تاجرین، وکلاء، خانگی اسکولس، ڈرائیورس اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص سرکردہ شخصیتوں پر مشتمل علیحدہ علیحدہ محاذ تشکیل دیئے تھے جوکہ تحریک تلنگانہ میں سرگرم جدوجہد کا ریکارڈ رکھتے ہیں جس میں صدر تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دُختر مسز کے کویتا کی جانب سے بنائی گئی تنظیم تلنگانہ جاگرتی کو بھی کافی اہمیت حاصل رہی۔ اسی طرح مختلف شعبوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں جن میں بیشتر اب بھی سرگرم ہیں اور مختلف مسائل پر اپنی رائے رکھتے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی جانب سے کئے جارہے دعوؤں کو سیاسی مبصرین صرف اس لئے تسلیم کرنے تیار ہیں چونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی واحد ایسی سیاسی جماعت ہے جس کے پاس ہر سطح پر کارکن کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی علیحدہ تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا اور حکومت کے رویہ سے ناراض بعض تنظیموں کی جانب سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا لیکن حکومت کی جانب سے ان تنظیموں کی تنقیدوں پر ردعمل ظاہر نہ کرتے ہوئے انہیں کارکرد رکھنے کی کوشش کی گئی اور طلبہ کی جانب سے مخالف حکومت تحریک کو روکنے کیلئے حکومت نے طلبہ کے بیشتر مطالبات تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنا ہمنوا بنا لیا۔ اسی طرح ملازمین کی جانب سے اختیار کردہ مخالف حکومت رویہ کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے ان کے بعض مطالبات کو منظور کرتے ہوئے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی جس کی وجہ سے بیشتر تنظیمیں اب بھی حکومت بلکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی سے منسلک ہیں۔ ذرائع کے بموجب کے سی آر کی دختر مسز کے کویتا اپنی غیرسیاسی تنظیم تلنگانہ جاگرتی کو بھی شہر حیدرآباد میں انتخابات کے دوران تشہیر کا ذریعہ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہیں جبکہ مختلف تنظیمیں جو ٹی آر ایس کی حامی رہی ہیں، وہ بھی ان انتخابات کے دوران ٹی آر ایس کیلئے بالواسطہ طور پر تشہیری مہم چلانے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے اختیار کردہ اس حکمت عملی پر سیاسی جماعتیں غور و خوض تو کررہی ہیں لیکن اس حکمت عملی کا موثر جواب دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس موجود نہیں ہے چونکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے حصول اقتدار کے بعد محاذی تنظیموں کو اہمیت نہیں دی جس کے نتیجہ میں یہ تنظیمیں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ خاموش ہوتی نظر آرہی ہیں لیکن اس مرتبہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں اپنی محاذی تنظیموں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ کو متحرک بنانے کے متعلق غور کرنے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT