Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کی ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں میں کامیابی کی مساعی

ٹی آر ایس کی ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں میں کامیابی کی مساعی

چیف منسٹر کے سی آر کا دورہ ، ترقی کے وعدے و سنگ بنیادیں ، انتخابی مہم کا عملاً آغاز
حیدرآباد۔/18فبروری، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں شاندار کامیابی کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں کے مجوزہ انتخابات پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ چیف منسٹر نے گزشتہ دنوں کھمم کا دو روزہ دورہ کیا تھا جس میں عوام کے مختلف طبقات سے ملاقات، کھمم ٹاؤن کی ترقی کے وعدے اور بعض پراجکٹس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ چیف منسٹر نے حالیہ عرصہ میں ورنگل کا سہ روزہ دور کرتے ہوئے مختلف پروگراموں میں شرکت کی تھی۔ ان دونوں اضلاع کے دورے کا مقصد دراصل دونوں کارپوریشنوں کے انتخابات کیلئے ٹی آر ایس کی مہم کا آغاز تھا۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری اور وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشورراؤ کو انتخابات کی تیاری کی ذمہ داری دی ہے۔ وہ اپنے اپنے متعلقہ اضلاع میں نہ صرف پارٹی کی انتخابی حکمت عملی طئے کریں گے بلکہ امیدواروں کے انتخاب کیلئے ان کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کڈیم سری ہری کا تعلق ورنگل اور ٹی ناگیشورراؤ کا کھمم سے ہے۔ دونوں اپنے اپنے اضلاع میں مضبوط قائد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اوروہ چیف منسٹر کے بااعتماد رفقاء میں ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی طرح چیف منسٹر دونوں کارپوریشنوں پر بھاری اکثریت کے ساتھ قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ اپوزیشن کا عملاً صفایا کیا جاسکے۔ دونوں کارپوریشنوں میں محفوظ نشستوں کو قطعیت دیتے ہوئے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد انتخابی اعلامیہ بھی ریاستی الیکشن کمیشن جاری کردے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتہ میں دونوں کارپوریشنوں کیلئے رائے دہی کا دن مقرر کیا جائے گا اور نتائج کے بعد اسمبلی کے بجٹ سیشن کا آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر کامیابیوں کے  تسلسل کے ساتھ اسمبلی میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپوزیشن پر حاوی رہ سکیں۔ چیف منسٹر نے دونوں کارپوریشنوں کی انتخابی مہم کی ذمہ داری اپنے فرزند وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو سپرد کی ہے اور وہ بہت جلد دونوں اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مقامی قائدین کے ساتھ انتخابی حکمت عملی کو قطعیت دیں گے۔ چیف منسٹر کو انتخابی مہم اور حریفوں سے نمٹنے کے سلسلہ میں کے ٹی آر کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔ واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد سے ٹی آر ایس نے ہر الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ قانون ساز کونسل کی 12نشستوں میں 10پر ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ گزشتہ دنوں نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس نے کانگریس سے اس نشست کو چھین لیا۔ اس طرح ٹی آر ایس نے ریاست میں اپنا موقف کافی مستحکم کرلیا ہے۔ دیگر جماعتوںکے قائدین کی شمولیت کا سلسلہ اگرچہ جاری ہے لیکن حیرت انگیز طور پر تلگودیشم کے 15کے منجملہ 10 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں جو پارٹی کے استحکام میں اہم رول ادا کریں گے اور اسمبلی بجٹ سیشن میں برسراقتدار پارٹی کا غلبہ برقرار رہے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT