Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / ٹی آر ایس کی گرفت مضبوط، کانگریس اور تلگودیشم نڈھال

ٹی آر ایس کی گرفت مضبوط، کانگریس اور تلگودیشم نڈھال

محمد نعیم وجاہت
’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی کہاوت فی الحال حکمراں ٹی آر ایس پر صادق آتی ہے۔ علحدہ ریاست تلنگانہ میں پہلی حکومت تشکیل دینے والی ٹی آر ایس نے سوائے حیدرآباد۔ رنگاریڈی۔ محبوب نگر گریجویٹ کوٹہ کونسل انتخابات، چنندہ ایم پی ٹی سیز اور سرپنچوں کے انتخابات کے باقی تمام انتخابات میں اس نے کامیابی کے جھنڈے لہرائے۔ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ساری ریاست میں اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی غلط ہے کہ صرف کے سی آر نے ہی اس طرح کی کوشش کی ہے، کیونکہ ماضی میں اقتدار پر قبضہ جمانے والے قائدین نے بھی سرکاری نظم و نسق اور سیاست میں اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کئے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سربراہ ٹی آر ایس دیگر قائدین سے دو قدم آگے ہیں۔

چانکیہ کی چال چلنے والے کے سی آر نے تلنگانہ قانون ساز کونسل سے پہلے کانگریس کو اقتدار سے محروم کرتے ہوئے کونسل پر ٹی آر ایس کے قبضہ کو یقینی بنایا۔ کانگریس کے 9 اور تلگودیشم کے 5 ارکان قانون ساز کونسل کو ٹی آر ایس میں شامل کرکے ایک تیر سے کانگریس اور تلگودیشم کا شکار کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اور ایک ایک کرکے تلگودیشم کے ارکان کونسل کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے کونسل سے تلگودیشم کا صفایا کردیا اور اب اسمبلی سے بھی تلگودیشم کے صفایا کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے تلگودیشم کے نصف سے زائد ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا، جب کہ دیگر ارکان ٹی آر ایس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر اور ان کے وزراء ببانگ دہل تلنگانہ سے تلگودیشم کے صفائے کا اعلان کر رہے ہیں، جب کہ تلگودیشم پارٹی، ٹی آر ایس کی حکمت عملی کا مقابلہ یا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔

اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو سربراہ تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کے چیف منسٹر بن گئے ہیں اور دوسری وجہ یہ کہ تلنگانہ تلگودیشم قائدین کے درمیان اتحاد اور رابطہ کا فقدان ہے۔ چندرا بابو نائیڈو حیدرآباد سے وجے واڑہ منتقل ہو گئے اور دارالحکومت امراوتی کی تعمیر کے علاوہ آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے تسلط کی برقراری پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں طوفان اور سیلاب نے بھی انھیں آندھرا پردیش تک محدود کردیا ہے، جس کی وجہ سے وہ تلنگانہ تلگودیشم کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کے فرزند لوکیش کو قومی تلگودیشم کا جنرل سکریٹری نامزد کیا گیا ہے، مگر وہ بھی زیادہ تر وقت آندھرا پردیش میں گزار رہے ہیں، جس کی وجہ سے روز بروز تلگودیشم پارٹی تلنگانہ میں کمزور ہو رہی ہے۔ تلگودیشم کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کے دیگر قائدین کو صرف اپنے سیاسی مستقبل کی فکر ہے، جب کہ ان قائدین میں پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال کا فائدہ ٹی آر ایس اٹھا رہی ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد تلنگانہ میں تلگودیشم کی سرگرمیاں صفر ہو گئی ہیں۔ صرف اسمبلی اجلاس کے موقع پر تلگودیشم کے ارکان اسمبلی ایک پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں، پھر اس کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔
اصل اپوزیشن کانگریس اپنی موجودگی اور برقراری کا گاہے بہ گاہے اظہار کرتی رہتی ہے، جب کہ حکمراں جماعت کانگریس قائدین کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، جس میں کئی بار اس نے کامیابی بھی حاصل کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تلنگانہ ریاست کانگریس نے تشکیل دی، لیکن عوام نے تحریک چلانے والے کے سی آر پر بھروسہ کیا، تاہم عوام کے دلوں میں کانگریس کی ہمدردی اب بھی پائی جاتی ہے۔ کانگریس پارٹی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس پارٹی کا ہر قائد سینئر ہونے کی وجہ سے خود کو ’’سردار‘‘ سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کی قیادت کو دل و جان سے تسلیم نہیں کرتا، اس طرح آپسی رسہ کشی اور انانیت کانگریس کے لئے نقصاندہ ثابت ہو رہی ہے، پھر بھی کانگریس قائدین اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ٹی آر ایس پورا پورا فائدہ اٹھاکر کانگریس قائدین کو توڑنے اور اپنے قریب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

ورنگل لوک سبھا ضمنی انتخاب کا نتیجہ کانگریس کو سبق حاصل کرنے کے لئے کافی ہے، کیونکہ پارٹی کے تمام قائدین نے ورنگل میں کیمپ کرکے اپنے امیدوار کے حق میں مہم چلائی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ کانگریس امیدوار کی ضمانت نہیں بچاسکے۔ اس کے بعد مقامی اداروں کی 12 نشستوں کے کونسل انتخابات کا اعلامیہ جاری ہوا۔ کانگریس نے تھوڑی دوڑ دھوپ کی اور دہلی میں ہائی کمان سے مل کر 8 نشستوں پر مقابلہ کرنے اور کھمم کی ایک نشست پر سی پی آئی کی تائید کا اعلان کیا، تاہم کانگریس نے صرف پانچ امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارکر ابھی انتخابی مہم کے بارے میں غور بھی نہیں کرسکی تھی کہ کانگریس اور تلگودیشم سے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے والے دو اضلاع کے امیدواروں نے حکمراں ٹی آر ایس کے حق میں دست برداری اختیار کرکے اپنی اپنی پارٹی کو ایک بار پھر دھکا دیا اور بلامقابلہ کامیاب ہونے والے ٹی آر ایس امیدواروں کو مٹھائی کھلاکر جشن منایا۔ اب صرف ضلع نلگنڈہ کی واحد نشست پر کانگریس اور ٹی آر ایس امیدوار کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، یعنی کانگریس کے امیدوار و سابق رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی اور ٹی آر ایس امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ درپیش ہے۔
مقامی اداروں کی 12 نشستوں پر حکمراں ٹی آر ایس کے 6 امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ مقامی اداروں کے کونسل انتخابات کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ حکمراں ٹی آر ایس نے انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے اور جی ایچ ایم سی کے حدود میں تشہیری بورڈس اور ہورڈنگس پر حکومت کی فلاحی اسکیمات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرکے عوام کو اپنی جانب راغب کر رہی ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے برقی اور پانی کے جملہ 400 کروڑ کے بقایہ جات کو معاف کردیا ہے، جس سے 6 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا۔ حکومت کے اس اعلان کا عوام میں مثبت اثر دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس اور تلگودیشم کے کمزور موقف کو دیکھ کر دونوں جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے علاوہ دوسرے اور تیسرے درجے کے قائدین بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ اب تک دونوں جماعتوں کے کئی سابق کارپوریٹرس ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں اور کئی رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد مزید قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ چند دن قبل تک تلگودیشم قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہو رہے تھے اور اب یہ سلسلہ کانگریس قائدین نے شروع کیا ہے۔ کانگریس رکن اسمبلی جے گیتا ریڈی اور صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس ڈی ناگیندر نے لمحہ آخر میں اپنی شمولیت کے فیصلہ سے دست برداری اختیار کرلی، جب کہ سیاسی حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ قائدین اور ٹی آر ایس کے درمیان مفاہمت نہیں ہوسکی۔ علاوہ ازیں سابق وزیر جی پرساد کمار (کانگریس) اور وجے راما راؤ (تلگودیشم) کسی بھی وقت ٹی آر ایس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم کے بیشتر ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہو چکے ہیں، جب کہ دیگر ارکان رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔

2014ء کے عام انتخابات میں تلگودیشم۔ بی جے پی اتحاد نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں توقع سے زیادہ کامیابی حاصل کی، مگر صرف ڈیڑھ سال میں تلگودیشم کے پانچ ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہو گئے۔ ریاست کی تقسیم سے ناراض حیدرآباد میں رہنے والے سیما۔ آندھرا کے عوام (سیٹلرس) نے تلگودیشم و بی جے پی اتحاد کو ووٹ دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے بوگس ووٹوں کے نام پر 6 لاکھ سے زائد لوگوں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کردیا، جب کہ اپوزیشن جماعتیں سیٹلرس کے نام فہرست سے خارج کرنے کا حکومت پر الزام عائد کر رہی ہیں اور الیکشن کمیشن سے شکایت کرنے کے بعد اس مسئلہ کو عدالت تک پہنچا دیا گیا ہے۔ بہرحال حکمراں ٹی آر ایس نے کانگریس اور تلگودیشم کو تلنگانہ میں کافی کمزور کردیا ہے، جب کہ مجلس اور بی جے پی کا کیڈر اس سیاسی اتھل پتھل سے اب تک محفوظ ہے، لیکن یہ دونوں جماعتیں کب تک محفوظ رہیں گی؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT