Wednesday , November 14 2018
Home / ہندوستان / ٹی آر ایس کی ہنگامہ آرائی ، تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جاسکی

ٹی آر ایس کی ہنگامہ آرائی ، تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جاسکی

مسلم تحفظات کوٹہ میں اضافہ کیلئے نعرہ بازی کے بہانے لوک سبھا میں مودی حکومت کی بالواسطہ تائید

نئی دہلی ۔ 19مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لوک سبھا میں آج پیش نہیں کی جاسکی مختلف جماعتوں کے شوروغل اور احتجاج کے سبب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی لگاتار 11 ویں دن بھی ملتوی کردی گئی اور لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن مسلسل دوسرے دن بھی تحریک عدم اعتماد کیلئے پیش کردہ نوٹسوں پر بحث کا عمل شروع نہیں کرسکیں۔ راجیہ سبھا کی کارروائی صبح کے 10 منٹ ہی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ لوک سبھا کا اجلاس پہلی مرتبہ دوپہر اور پھر مقررہ ایجنڈہ کے دستاویزات کی پیشکش کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ ایوان زیریں کا اجلاس مختلف جماعتوں کے ارکان کے شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے درمیان ملتوی کردیا گیا ۔ اسپیکر مہاجن نے کہاکہ ’’ایوان میں نظم و ضبط نہیں ہے۔ معاف کیجئے میں یہ ( تحریک عدم اعتماد نوٹس) غور و بحث کے لئے پیش نہیں کرسکتی ‘‘ ۔ شوروغل کے دوان وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ حکومت کسی بھی مسئلہ پر بحث کے لئے تیار ہے جس میں تحریک عدم اعتماد بھی شامل ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے رکن وائی وی سبا ریڈی کے علاوہ تلگودیشم کے دو ارکان تھوٹانہ سمھم اور جئے دیوگلا نے تحریک عدم اعتماد کیلئے نوٹسیں پیش کیا تھا ۔ یہ دونوں جماعتیں آندھراپردیش کیلئے خصوصی پیکیج جاری کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ اس مسئلہ پر تلگودیشم پارٹی گزشتہ ہفتہ حکمراں این ڈی اے سے علٰحدہ ہوگئی تھی ۔ ایوان میں وقفہ سوالات کے بعد جیسے ہی وقفۂ صفر شروع ہوا ٹی آر ایس اور انا ڈی ایم کے کے ارکان پلے کارڈس تھامے نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے ۔ ٹی آر ایس تحفظات کے کوٹہ میں اضافہ کا مطالبہ کررہی تھی ۔ انا ڈی ایم کے دریائے کاویری آبی انتظامی بورڈ کی فوری تشکیل کے مطالبہ پر اصرار کررہی تھی ۔ ایوان میں مصروفیات کے ایجنڈہ سے متعلق کاغذات کی پیشکشی کے ساتھ ہی مختلف جماعتوں کے ارکان نے مختلف مسائل پر نعرہ بازی شروع کردی ۔ اس دوران وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ حکومت کسی بھی مسئلہ پر بحث کیلئے تیار ہے ۔ انھوں نے کہاکہ بعض ارکان تحریک عدم اعتماد پر نوٹس بھی پیش کئے ہیں اور حکومت اس پر بھی بحث کے لئے تیار ہے اور ارکان سے تعاون کی درخواست کی تاکہ اس ( نوٹس ) پر کارروائی شروع کی جاسکے۔ اسپیکر نے انا ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس کے ایوان میں احتجاج کرنے والے 25 سے زائد ارکان سے اپنی نشستوں پر بیٹھنے بارہا مرتبہ خواہش کی ۔ ایک ایسے وقت جب ایوان میں شوروغل جاری ہی تھا کہ مہاجن نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد پر نوٹس سے متعلق کارروائی کیلئے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کی پابند ہیں لیکن جب تک ایوان میں نظم و ضبط بحال نہیں ہوتا وہ اس پر کارروائی نہیں کرسکیں گی ۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ ایک ماہ طویل تعطیلات کے بعد 5 مارچ سے شروع ہوا تھا جس کے بعد سے دونوں ایوانوں میں ارکان کی مسلسل ہنگامہ آرائی کے سبب ایک دن بھی مقررہ کارروائی نہیں چلائی جاسکی ۔ لوک سبھا میں گزشتہ ہفتہ کسی بحث مباحثہ کے بغیر یہ فینانس بل اور مصارف بلس منظور کرلئے گئے تھے ۔ راجیہ سبھا کی کارروائی میں ٹاملناڈو اور آندھراپردیش کی جماعتوں کی طرف سے اپنے متعلقہ مطالبات پر ہنگامہ آرائی کے سبب التواء کی نذر ہوگئی ۔ ایوان میں آج کی مصروفیات سے متعلق ایجنڈہ دستاویزات کی پیشکشی کے ساتھ ہی کانگریس کے سینئر رکن کے وی پی رامچندر راؤ کی قیادت میں آندھراپردیش کی جماعتوں کے ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور ان کی ریاست کو خصوصی موقف دینے کا مطالبہ کیا ۔ صدرنشین ایوان ایم وینکیا نائیڈو نے احتجاجی ارکان سے پرسکون انداز میں کارروائی چلانے میں تعاون کی متعدد مرتبہ اپیل کی ۔ انھوں نے وقفۂ صفر میں مقررہ بعض اہم عوامی مسائل پر بحث شروع کرنے پر زور دیا لیکن ایوان کے وسط میں جمع احتجاجی ارکان اپنے موقف پر اٹل رہے اور ان کی ہدایت پر تعمیل سے انکار کردیا جس کے بعد انھوں نے ایوان کی کارروائی کے آغاز کے صرف 10 منٹ بعد ہی دن بھر کیلئے اجلاس کے التواء کا اعلان کردیا۔ ہنگامہ آرائی اور تعطل پر برہم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ’’ایوان کے وسط سے احتجاج اور بار بار التواء کے سبب پارلیمنٹ اب جگ ہنسائی کا سامان بن گیا ہے ‘‘۔ انھوں نے کہاکہ ’’یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ یہ پارلیمنٹ کے مفاد میں بھی نہیں ہے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT