Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کے احتجاج سے اسمبلی کی کارروائی درہم برہم

ٹی آر ایس کے احتجاج سے اسمبلی کی کارروائی درہم برہم

اپوزیشن کے تحریکات التواء مسترد۔ مالیاتی بلز کی منظوری

اپوزیشن کے تحریکات التواء مسترد۔ مالیاتی بلز کی منظوری
حیدرآباد۔ /12 فبروری، ( سیاست نیوز) ریاستی قانون ساز اسمبلی میں آج جیسے ہی ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا، زبردست احتجاج، نعرہ بازی، شور شرابہ و ہنگامہ آرائی کی وجہ سے صرف چار منٹ میں ہی ایوان کی کارروائی ایک گھنٹہ کے لئے ملتوی کرنے اعلان کیا گیا۔ جبکہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کااجلاس 10فبروری کو ووٹ آن اکاؤنٹ (علی الحساب ) بجٹ کی پیشکشی کے ایک دن وقفہ کے بعد آج شروع ہوا تھا لیکن ایوان کی کاررائی کا جیسے ہی آغاز ہوا ’ سیما آندھرا چیف منسٹر ہمیں نہیں چاہیئے‘ یہ کیا اجلاس ہے، سیما آندھرا اجلاس ہے‘ جیسے فلک شگاف نعرے ایوان میں گونج رہے تھے۔ اسی دوران اسپیکر اسمبلی مسٹر این منوہر نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی کابینہ میں منظوری کے بغیر سرکاری اسکیمات کیلئے رقومات کی اجرائی مجلس کی جی ایچ ایم سی ملازمین کی ہڑتال سے پیدا شدہ صورتحال پر مباحث کا موقع دینے، سی پی آئی کی آنگن واڑی ورکرس کے مسائل پر اور سی پی آئی ایم کی ریاست میں بلدی ملازمین کو درپیش مسائل و جاری ہڑتال سے متعلق پیش کردہ تحریکات التواء کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ ایوان کی کارروائی کا آغاز ہونے میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان نے اسپیکر پوڈیم کے قریب جاکر سخت احتجاج کیا اور نعرہ بازی شروع کی۔ اسی دوران کانگریس ( تلنگانہ ) کے بعض ارکان بھی ٹی آر ایس ارکان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوئے۔

اسی طرح تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کے بعض ارکان اسمبلی اسپیکر پوڈیم کے پاس پہنچ کر احتجاج میں شامل ہوکر موافق تلنگانہ نعرے بلند کئے۔ اسپیکر کی جانب سے جی ایچ ایم سی ورکرس کی ہڑتال پر بحث کا موقع فراہم نہ کرکے تحریک التواء کو مسترد کئے جانے پر مجلس کے ارکان نے بھی ایوان کے وسط تک جاکر اپنا احتجاج درج کروایا۔ مسٹر این منوہر نے کہا کہ آپ تمام اپنی نشستوں پر واپس جائیں تب ہی بحث کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اس طرح یہاں آکر احتجاج کریں گے تو کس طرح مباحث کیلئے آپ کو موقع دیا جاسکتا ہے۔ اسپیکر اسمبلی نے احتجاجی ارکان سے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھنے میں کرسی صدارت سے تعاون کرنے کی متعدد مرتبہ خواہش کی۔ لیکن ایوان میں صورتحال جوں کی توں برقرار رہی اور احتجاجی نعروں میں مزید شدت پیدا ہوتے دیکھ کر ایوان کی کارروائی کو ٹھیک 10بجکر4 منٹ پر ایک گھنٹہ کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج ایوان میں نہ چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی موجود تھے اور نہ قائد اپوزیشن مسٹر این چندرا بابو نائیڈو موجود تھے۔ ایوان کی کارروائی کا دوبارہ تقریباً پونے دو گھنٹے بعد ٹھیک 11بجکر 46 منٹ پر آغاز ہوا۔

ایوان میں ٹی آر ایس ارکان، تلنگانہ کے بعض کانگریس اور تلگودیشم ارکان کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور زبردست احتجاجی نعرہ بازی کی جارہی تھی۔ اسی دوران اسپیکر اسمبلی مسٹر این منوہر نے وزیر فینانس سے ایجنڈہ میں شامل بلوں کو پیش کرنے کی ہدایت دی۔ جس پر وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی کی جانب سے جملہ 79469,83,13,000 ہزارکروڑ ضروری اخراجات سے متعلق اڈوانس بجٹ بل کو احتجاج کے دوران ہی ندائی ووٹ سے منظوری دی گئی۔ اسی طرح سال 2013-14 کے زاید اخراجات سے متعلق 11327,28,57,000 کروڑ روپئے پر مشتمل بل کو بھی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں احتجاج کے دوران ہی ایک اور معاشی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ سے متعلق ترمیمی بل 2013ء کو بھی منظوری دی گئی۔ جوں ہی ایوان میں مذکورہ بلز منظور کرلئے گئے۔ اسپیکر اسمبلی نے ایوان کی کارروائی کو13فبروری صبح 10بجے تک کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT