Sunday , October 21 2018
Home / مضامین / ٹی آر ایس کے انتخابی وعدے پورے نہ ہوئے کانگریس اُبھرنے کی کوشش میں

ٹی آر ایس کے انتخابی وعدے پورے نہ ہوئے کانگریس اُبھرنے کی کوشش میں

محمد نعیم وجاہت
طویل جدوجہد ، سینکڑوں زندگیاں قربان ہونے کے بعد تقریباً 4 سال قبل علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پائی حالانکہ کانگریس کے زیرقیادت یو پی اے حکومت نے کئی رکاوٹوں کے باوجود تاخیر سے سہی عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا لیکن اس وقت تک کافی دیر ہوگئی تھی جس کی وجہ سے 2014 ء کے عام انتخابات میں کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ، تشکیل سے 2009 ء تک ٹی آر ایس نے کبھی تنہا مقابلہ نہیں کیا ۔ 2004 ء میں کانگریس اور کمیونسٹ جماعتوں سے اتحاد کیا تو 2009 ء میں تلگودیشم اور کمیونسٹ جماعتوں سے اتحاد کیا مگر 2014 ء میں پہلی مرتبہ تنہا مقابلہ کرکے اقتدار حاصل کیا ۔ تلنگانہ تحریک کا محاسبہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ٹی آر ایس نے جب بھی ضمنی انتخابات کا سامنا کیا ہے تلنگانہ میں قائدین نے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر صرف تلنگانہ جذبے کو بتانے مخالفین تلنگانہ کو سبق سکھانے اور مرکز پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے ٹی آر ایس کی تائید کی ہے ۔ ٹی آر ایس نے اس تائید کا خیرمقدم کرنے کے بجائے قائدین کی مجبوری سمجھا ہے ۔ یہی ٹی آر ایس کی کامیابی اور دوسری جماعتوں کی شکست کا سبب بنی ہے ۔ جن وعدوں کے ساتھ ٹی آر ایس نے اقتدار حاصل کیا تھا اس پر اور علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت ورثہ میں جو قرض حاصل ہوا تھا اس کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ حکمران ٹی آر ایس نے عوام سے کئے گئے اہم وعدوں کو فراموش کردیا ہے ۔ سب سے پہلے کے سی آر نے رات کو نئی ریاست کا پہلا چیف منسٹر بنانے اور واچ ڈاک کی طرح تلنگانہ کی نگرانی کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ غریب و بے گھر افراد کو عزت و نفس کی زندگی گزارنے کیلئے ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کرنے مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے دلتوں میں 3 ایکر اراضی تقسیم کرنے خواتین کو خود مختار بنانے ایک لاکھ سرکاری ملازمتوں پر تقررات کرنے ایک کروڑ زرعی اراضی کو سیراب کرنے وقف جائیدادوں کی ناجائز قبضوں کو برخواست کرنے ، لینکو ہلز کے بشمول دوسری وقف اراضیات کو وقف بورڈکے کنٹرول میں کرنے اور وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دینے اُردو زبان کے ساتھ مکمل انصاف کرنے محکمہ اقلیتی بہبود میں موجود مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات کرنے کے علاوہ اور بھی کئی وعدے کئے تھے ۔ کیا ان وعدوں پر 4 سال میں عمل آوری ہوئی ہے ۔ جواب نہیں میں ملے گا ۔ 4 سال کے دوران ریاست کا قرض 2.20 لاکھ کروڑ تک پہونچ گیا ہے ۔ آزادی کے بعد سے 2014 ء تک متحدہ آندھراپردیش میں جو قرض حاصل کیا گیا وہ تلنگانہ کے حصے میں صرف 70 ہزار کروڑ روپئے آیا تھا ۔ 4 سال میں ٹی آر ایس نے دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرتے ہوئے آخر کیا کیا ہے جبکہ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے اپنی جانب سے ایک بھی نیا آبپاشی پراجکٹ تعمیر نہیں کیا ہے کانگریس کے دور حکومت میں جو آبپاشی پراجکٹس تعمیر کئے جارہے تھے یا تو اس کا نام تبدیل کیا ہے یا ڈیزائن تبدیل کرنے میں ہزاروں کروڑہا روپئے خرچ کردیئے ۔

سابقہ حکومتوں کے کارناموں اور اسکیمات کو اپنا کارنامہ قرار دیا جارہا ہے ۔ مثال کے طور پر پہاڑی اراضی کو تراشا سنوارا اور مضبوط بنیاد رکھ کر کسی نے عمارت کھڑی کی اور اسی عمارت کی چھت پر پینٹ ہاؤز تعمیر کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت ساری عمارت پر اپنی دعویداری ٹھوک رہی ہے ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کے وعدے کو پورا نہ کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر اپنے لئے 500 کروڑ روپئے کے مصارف سے شہر کی قیمتی اراضی پر عالیشان محل تعمیر کرلیا ہے ۔ 4 ماہ کے بعد وعدے 4 سال گزرگئے مگر ابھی تک مسلمانوں کو 12 فیصد مسلم تحفظات نہیں ملے اور نہ ہی قبائیلوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم ہوئے ۔ لینکو ہلز کی وقف اراضی ابھی تک وقف بورڈکے حوالے نہیں ہوئی مگر جو وقف اراضیات تھے اس پر بھی ناجائز قبضے ہوگئے ہیں وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات 4 سال میں فراہم نہیں ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود میں ملازمین کی اکثریت یا تو کنٹراکٹ ایمپلائیز کی ہے یا موظف ایمپلائیز خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ مستقل ایمپلائیز کے تقررات کا وعدہ پورا نہیں کیاگیا ۔ گزشتہ اسمبلی
اجلاس میں چیف منسٹر نے اندرون 2 ماہ 66 اُردو مترجمین کی جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا ۔ تین ماہ گزر جانے کے باوجود اس پر ہنوز کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ اسبملی سیشن کے دوران ہی چیف منسٹر نے 15 دن میں اسلامک کلچر سنٹر کا سنگ بنیاد رکھنے کا وعدہ کیا ۔ 85 دن مکمل ہونے کے باوجود اس کو بھی فراموش کردیا گیا ۔ تعجب کی بات ہے صدر امریکہ کی دختر ایونکا ٹرمپ کے شہر پہونچنے سے قبل کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے حیدرآباد کو دلہن کی طرح سجایا گیا ۔ چیف منسٹر کے فرزند وزیر آئی ٹی کے ٹی آر ایوانکا ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے اپنے وزیر آئی ٹی کے بجائے (ایوانکا ٹرمپ) وزیر ہونے کا بھی دعویٰ کیا ۔ جبکہ ایوانکا ٹرمپ کے اس دورے سے ریاست میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ۔ دوسری جانب ایران کے صدر آغا حسن روحانی شہر حیدرآباد کا دورہ کرتے ہیں تو حکومت نے انہیں یکسر نظر انداز کردیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ان سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور نا ہی ان کے فرزند کے ٹی آر نے صدر ایران سے ملاقات کرنے میں اپنی دلچسپی دکھائی جبکہ ہند ۔ ایران کے برسوں سے خوشگوار تعلقات ہیں مگر ریاستی حکومت نے مناسب انداز سے مہمان نوازی بھی نہیں نبھائی ۔ حکومت تلنگانہ نے اس مسئلہ پر غفلت سے کام کرتے ہوئے عوام میں غلط پیغام روانہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ شیعہ مسلمانوں کے اسماعیلی فرقہ کے امام روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان نے بھی حیدرآباد کا بھی دورہ کیا ۔ انہیں بھی تلنگانہ حکومت نے یکسر نظر انداز کیا ہے ۔ واضح رہے کہ آغا خاں ٹرسٹ گنبداں قطب شاہی کی تزئین نو کیلئے 100 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے ۔ ایوانکا ٹرمپ صرف صدر امریکہ کی دختر ہونے کی وجہ ان کا سرخ قالین پر استقبال کیا اور چیف منسٹر کے سی آر نے ان کے اعزاز میں گنبداں قطب شاہی میں پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا وہی صدر ایران آغا حسن روحانی سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ پرنس آغا خان نے 100 کروڑ روپئے دیئے ہیں مگر افسوس کے انہیں چائے نوشی کیلئے بھی مدعو نہیں کیا گیا ۔ جبکہ حیدرآباد کی مہمان نوازی ساری دنیا میں مشہور ہے لیکن حکومت تلنگانہ نے مہمان نوازی میں بھی جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ مذہبی عقیدہ رکھنے والے کے سی آر لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے پوجا پاٹ اور یگنہ کراتے ہوئے کروڑ ہا روپئے خرچ کرتے ہوئے منادر تعمیر کروارہے ہیں ۔ مراد پوری ہونے پر کروڑہا روپئے کے زیورات منادر کی نذر کررہے ہیں مگر شہر حیدرآباد میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا ۔ ملک کے بڑے بڑے علمائے دین تین دن حیدرآباد میں بابری مسجد اور طلاق ثلاثہ کے علاوہ دوسرے مسائل پر غور کیا ۔ مگر چیف منسٹر کے سی آر نے ان سے ملاقات کرنے یا انہیں پرگتی بھون طلب کرکے مسلمانوں کے مسائل پر بھی رائے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

کانگریس نے تلنگانہ میں ’’پرجا چتنیہ یاترا‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے عملاً انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے بس یاترا کے ذریعہ کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین میں اتحاد پیدا کرنے کی جو کوشش کی ہے اس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں ۔ /26 تا /28 فبروری تک کانگریس کے قائدین ہر دن 2 اسمبلی حلقوں میں بڑے بڑے جلسوں کا انعقاد کیا ہے جو کامیاب
رہے ہیں ۔ عوام نے ان جلسوں پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ۔ چیوڑلہ سے شروع ہونے والی یاترا نارائن کھیڑ میں ختم ہوئی ہے ۔ عوام نے کانگریس قائدین کا زبردست استقبال کیا ہے ۔ جس سے کانگریس قائدین کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور پارٹی قائدین میں ایک نیاجوش و خروش پیدا ہوا ہے ۔ کانگریس قائدین نے ان جلسوں کے ذریعہ حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کرنے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور ساتھ ہی اتم کمار ریڈی نے انتخابی منشور میں شامل کئے جانے والے وعدوں کا پہلے ہی اعلان کرتے ہوئے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کی ہے ۔ مثال کے طور پر کانگریس کو اقتدار حاصل ہوتے ہی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کسان سمیتیوں کو برخواست کرنے اور یکمشت میں کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک قرضہ جات معاف کرنے اقتدار حاصل ہوتے ہی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3 ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ جاری کرنے تمام اہل طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ جاری کرتے ہوئے تین سال کے بقایا جات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

کانگریس کے دور حکومت میں گھر کے تمام اہل افراد میں وظیفہ تقسیم کیا جاتا تھا ۔ ٹی آر ایس حکومت نے وظیفہ کی رقم کو 200 روپئے سے بڑھاکر 1000 اور 1500 روپئے کردیا مگر اس کو گھر کے ایک رکن تک محدود کردیا ۔ کانگریس پارٹی نے گھر کے تمام اہل افراد کو وظیفہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح مزید اعلانات کرتے ہوئے عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کا آغاز کردیا ۔ ہولی تہوار کی وجہ سے بس یاترا کو تین دن کیلئے ملتوی کیا گیا ہے ۔ /4 مارچ کو ضلع نظام آباد سے دوبارہ پرجا چیتنیہ یاترا کا آغاز ہورہا ہے جو اسمبلی بجٹ اجلاس کے آغاز سے قبل تک چلائی جائے گی ۔ اسمبلی بجٹ سیشن کے دوران یاترا کو وقفہ دیا جائے گا ۔ دوبارہ بجٹ سیشن کے اختتام کے بعد بس یاترا کا آغاز کیا جائے گا ۔ جو /2 جون تک جاری رہے گی ۔ اس موقع پر ایک بہت بڑا جلسہ عام کا اہتمام کرتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی کو مدعو کیا جائے گا ۔
دوسری جانب صدر ٹی آر ایس و چیف منسٹر کے سی آر نے بھی عوامی ملاقات پروگرامس کا آغازکیا ہے ۔ پہلے دن کریم نگر میں کسان سمیتیوں کے قائدین سے ملاقات کی ۔ دوسرے دن سنگارینی ایمپلائیز سے خطاب کیا اور تیسرے دن ضلع عادل آباد میں انعقاد پروگرامس میں شرکت کی تین دن تک انہوں نے بھی عوامی جلسوں سے خطاب کیا ۔ کانگریس کے ساتھ بی جے پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ مگر حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی ضلع عادل آباد میں دیکھنے کو ملی ۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے چیف منسٹر کے سی آر کی تقریر کے دوران وعدے کے مطابق ملازمین فراہم کرنے کے نعرے لگاتے ہوئے چیف منسٹر کو حیرت زدہ کردیا مگر چیف منسٹر خوش نصیب رہے کہ اس کی زیادہ پبلسٹی نہیں ہوئی ۔ فلم اداکارہ سری دیوی کی موت اور نعش ملنے میں تین دن تک تاخیر ہوجانے سے میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کی ساری توجہ سری دیوی پر مرکوز ہوگئی ۔ جس کی وجہ سے کانگریس کی پرجا چتنیہ یاترا کو میڈیا میں اہمیت نہیں ملی جبکہ ٹی آر ایس کے پاس تلگو ٹیلی ویژن کے ساتھ تلگو و انگریزی اخبار ہے جس کی بدولت چیف منسٹر کے خلاف جو مظاہرے ہوئے اس کو تو کوئی اہمیت نہیں دی گئی مگر چیف منسٹر کا جو پیغام تھا اس کی زبردست تشہیر کی گئی ۔ چوتھا سروے بھی ٹی آر ایس کیلئے مایوس کن ثابت ہوا ہے ۔ جس کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے آپ کو پرگتی بھون یا فارم ہاؤز تک محدود رکھنے کے بجائے عوام سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی ریاستی وزراء کو اضلاع کے دورے کرنے ترقیاتی و تعمیری کاموں میں حصہ لینے اور حکومت کے کارناموں کو عوام تک پہونچانے کی ہدایت دی گئی ہے ہوسکتا ہے عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ /5 مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن میں ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں آواز بھی اٹھاسکتے ہیں ۔ چیف منسٹر کی جانب سے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے پر بی جے پی نے بطور احتجاج ریاست کے مختلف مقامات پر چیف منسٹر کے پتلے نذر آتش کئے اور راج بھون پہونچکر گورنر سے شکایت بھی کی ہے ۔ حیدرآباد کے دورے پر پہونچنے والی وزیر دفاع نرملا سیتارامن نے بھی چیف منسٹر کے سی آر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT