Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کے لوک سبھا اور اسمبلی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت

ٹی آر ایس کے لوک سبھا اور اسمبلی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے لوک سبھا اور اسمبلی کیلئے اپنے امیدواروں کے ناموں کو تقریباً قطعیت دیدی ہے۔ تاہم اس فہرست میں اقلیتوں کی مناسب نمائندگی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع کے مطابق چندر شیکھر راو نے مختلف سروے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تلنگانہ میں صرف تین اسمبلی حلقے ایسے ہیں ج

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے لوک سبھا اور اسمبلی کیلئے اپنے امیدواروں کے ناموں کو تقریباً قطعیت دیدی ہے۔ تاہم اس فہرست میں اقلیتوں کی مناسب نمائندگی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع کے مطابق چندر شیکھر راو نے مختلف سروے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تلنگانہ میں صرف تین اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم امیدوار کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 17 لوک سبھا حلقوں میں کسی بھی حلقے سے ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی یقینی نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس نے حیدرآباد کو چھوڑ کر اضلاع سے صرف تین مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جن دو حلقے جات سے مسلم امیدواروں کی نامزدگی طئے سمجھی جارہی ہے ، ان میں بودھن اور کھمم شامل ہیں۔ تیسرے حلقے کے بارے میں پارٹی میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مسلم اقلیت کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مناسب نمائندگی ظاہر کرنے کیلئے حیدرآباد کے بعض اسمبلی حلقوں سے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے گا ۔ حالانکہ پارٹی کو یقین ہے کہ شہر میں کسی بھی حلقہ سے مسلم امیدوار کی کامیابی ممکن نہیں۔ شہر کے دو اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں ٹی آر ایس کو مضبوط امیدوار دستیاب ہیں لیکن چندر شیکھر راؤ مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کے تحت ان حلقوں سے مسلم امیدواروں کی نامزدگی کے بارے میں پس و پیش کر رہے ہیں۔ ایک اسمبلی حلقہ میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے قائد نے ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کا پیشکش کیا۔ اس حلقہ میں اس قائد کی گرفت کافی مضبوط سمجھی جارہی ہے۔ کانگریس سے ٹکٹ نہ ملنے کے اندیشے کے تحت انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت کی پیشکش کی لیکن چندر شیکھر راؤ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ شہر کے بعض اسمبلی حلقہ جات سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ پارٹی نے ٹکٹوں میں مناسب نمائندگی دی ہے۔ پارٹی کے الیکشن کمیٹی میں شامل ایک قائد نے بتایا کہ لوک سبھا کے امیدواروں میں کسی بھی حلقہ سے مسلم امیدوار کا نام زیر غور نہیں۔ اسی دوران پارٹی نے انتخابی منشور کو بھی تقریباً قطعیت دیدی ہے جس میں اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کو شامل کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جن وعدوں کو انتخابی منشور میں جگہ دی جارہی ہے ، ان میں 12 فیصد تحفظات ، مفت تعلیم ، وقف بورڈ عاملانہ اختیارات ، ائمہ مساجد کو ماہانہ 2000 روپئے امداد ، مؤذنین کو ماہانہ 1500 روپئے امداد ، ضعیف افراد کو ماہانہ 1000 روپئے پنشن ، معذورین کو ماہانہ 1500 روپئے اور بیواؤں کو ماہانہ 1000 روپئے پنشن جیسے وعدے شامل ہیں۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کا وعدہ بھی انتخابی منشور میں کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT