Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کے مجلس سے جائز اور بی جے پی سے ناجائز تعلقات

ٹی آر ایس کے مجلس سے جائز اور بی جے پی سے ناجائز تعلقات

عوام ، کے سی آر کو دوبارہ چیف منسٹر کے طور پر دیکھنے تیار نہیں : ڈاکٹر شراون
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ٹی آر ایس پر مجلس سے جائز اور بی جے پی سے ناجائز تعلقات قائم کرلینے کا الزام عائد کیا ۔ کے سی آر کو اقتدار سے دور کیوں رکھا جائے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ سے استفسار کرنے کا کے ٹی آر کو مشورہ دیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان اعلی تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر شراون نے کارگزار وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی جانب سے اپوزیشن سے کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کو اقتدار سے دور کیوں رکھا جائے خود کے ٹی آر عثمانیہ یونیورسٹی پہونچ کر طلبہ سے سوال کریں۔ انہوں نے کہا کہ سوائے کے سی آر خاندان کے 4 ارکان کے تلنگانہ کے چار کروڑ عوام آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو اقتدار سونپنے اور کے سی آر کو بحیثیت چیف منسٹر دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ترجمان اعلی تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر شراون نے کہا کہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے کی سی آر نے ایک طرف مجلس سے جائز تو دوسری طرف بی جے پی سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے ہیں ۔ اس لیے کے سی آر کو اقتدار سے دور رکھنے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کے 45 لاکھ بیروزگار سے دریافت کرنے پر کے ٹی آر کو اس کا جواب مل جائے گا ۔ قرضوں کے بوجھ تلے خود کشی کرنے والے 4500 کسانوں کے ارکان خاندان سے استفسار کرنے پر جواب مل جائے گا ۔ اظہار خیال کی آزادی پر امتناع عائد کرنے حقوق کی آواز اٹھانے والوں کے ساتھ کی جانے والی انتقامی کارروائی کا شکار ہونے والوں سے سوال کرنے پر جواب مل جائے گا ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کے بعد وعدے پر عمل کرنے کی وجہ برہم اور ناراض رہنے والے مسلمانوں سے سوال کرنے پر اس کا جواب مل جائے گا ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کرنے کا خواب دیکھا کر غریب عوام کے ارمانوں کا خون کردینے والے عوام سے استفسار کرنے پر کے ٹی آر کو اس کا جواب مل جائے گا ۔ تین ایکڑ اراضی دینے کا وعدہ کرتے ہوئے دلتوں کا ووٹ حاصل کر کے انہیں فراموش کردینے والے دلتوں سے سوال کرنے پر اس کا جواب مل جائے گا ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا بھروسہ دلا کر دھوکہ کا شکار بنانے والے عوام سے استفسار کرنے اس کا جواب مل جائے گا ۔ تنخواہوں پر نظر ثانی کرنے کے لیے پی آر سی کا اعلان کرنے کے بعد تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے سے برہم سرکاری ملازمین سے استفسار کرنے پر اس کا جواب مل جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT