Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کے مسلم ارکان اسمبلی و کونسل میں ہلچل

ٹی آر ایس کے مسلم ارکان اسمبلی و کونسل میں ہلچل

محمد فرید الدین کو ایم ایل سی نامزدگی کے اعلان پر کابینہ میں اضافہ کا امکان
حیدرآباد۔ 30۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے اقلیتی نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کیلئے چیف منسٹر کی جانب سے سابق وزیر محمد فرید الدین کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی میں مختلف قیاس آرائیوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ پارٹی میں موجود مسلم ارکان اسمبلی و کونسل کے حامیوں میں کافی ہلچل دیکھی جارہی ہے کیونکہ مسلم نمائندگی میں اضافہ کے ساتھ ہی کابینہ میں ایک اور مسلم نمائندگی کے لیے شمولیت کی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے قانون ساز کونسل کی ایک مخلوعہ نشست کیلئے محمد فریدالدین کے نام کو منظوری دی ہے ۔ سابق وزیر محمد فریدالدین ، وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت میں اقلیتی بہبود کے وزیر رہ چکے ہیں۔ کھمم کے پالیرو اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں انتخاب کے بعد ریاستی وزیر ٹی ناگیشور راؤ نے کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ اگرچہ اس نشست پر کئی قائدین کی نظریں تھیں لیکن چیف منسٹر نے میدک کے ظہیر آباد سے تعلق رکھنے والے محمد فریدالدین کے نام کو منظوری دی۔ ابتداء میں راجیہ سبھا کی نشست کیلئے ان کا نام زیر غور تھا۔ فریدالدین کو کونسل کی رکنیت کے ذریعہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر انہیں کابینہ میں شامل کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں سابق میں وزیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے کام کا تجربہ ہے ۔ پارٹی میں موجود مسلم نمائندوں نے کوئی بھی سابق میں وزیر نہیں رہے۔ پارٹی میں ایک رکن اسمبلی اور تین ارکان اسمبلی کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے، جن میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی شامل ہیں۔ محمد فریدالدین کی کونسل میں رکنیت کے بعد ٹی آر ایس کے مسلم ارکان کونسل کی تعداد بڑھ کر 4 ہوجائے گی۔ حال ہی میں کانگریس سے محمد فاروق حسین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ، ان سے قبل محمد سلیم جو تلگو دیشم کے رکن تھے، وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی حلقوں کا مانناہے کہ محمد فریدالدین کو کونسل کی رکنیت کے پس پردہ چیف منسٹر کی حکمت عملی کارفرما ہے ۔ وہ کابینہ میں تبدیلی اور حکومت کے اہم عہدوں کی تقسیم میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کے خواہاں ہیں۔ پارٹی کے واحد رکن اسمبلی عامر شکیل کو ابھی تک کوئی اہم سرکاری عہدہ نہیں دیا گیا جبکہ وہ وزارت میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین میں بھی کافی تجسس دیکھا جارہا ہے اور وہ آنے والے دنوں میں سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں مختلف اندازے قائم کر رہے ہیں۔ فریدالدین کے نام کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے حامی سرگرم ہوگئے۔ اس کے علاوہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے دیگر اقلیتی قائدین بھی ان کے کیمپ میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس طرح ٹی آر ایس میں موجود اقلیتی قائدین اور کارکن اپنے لئے مضبوط سہارے کی تلاش میں ہیں تاکہ انہیں نامزد عہدوں کے موقع پر نمائندگی مل سکے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جس طرح ڈی سرینواس کو راجیہ سبھا کی رکنیت دیتے ہوئے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا ، اسی طرح محمد فریدالدین کے اعلان سے پارٹی کے اقلیتی قائدین اور عوامی نمائندوں میں ہلچل  پیدا کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT