Tuesday , February 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کے موجودہ 90 ارکان اسمبلی کو ٹکٹ کی صورت میں صرف 40 تا 50 کی کامیابی

ٹی آر ایس کے موجودہ 90 ارکان اسمبلی کو ٹکٹ کی صورت میں صرف 40 تا 50 کی کامیابی

2019ء انتخابات ٹی آر ایس کیلئے دردِ سر ، مجھے شکست دینا کسی کے بس کی بات نہیں : کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی
حیدرآباد۔15 نومبر (سیاست نیوز)کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس کے موجودہ 90 ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیا جاتا ہے تو 40 تا 50 اسمبلی حلقوں میں حکمراں ٹی آر ایس کو آسانی سے شکست ہوجائے گی۔ آج اسمبلی کی لابی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر کانگریس کے سینئر قائد کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ان کی اکثریت میں فرق پڑسکتا ہے، مگر وہ ہرگز شکست سے دوچار نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا جب سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی ایک مرتبہ 5,000 ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے تو دوسری مرتبہ ان کی اکثریت 5 لاکھ ووٹوں تک پہونچ گئی، ایسا ہی کچھ اسمبلی حلقہ نلگنڈہ میں ہوسکتا ہے مگر وہ کبھی الیکشن میں ہار نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں ٹی آر ایس نے دوسری سیاسی جماعتوں سے کامیاب ہونے والے 26 ارکان اسمبلی کو اپنی پارٹی میں شامل کرلیا ہے۔ 2019ء کے عام انتخابات میں یہی عمل ٹی آر ایس کیلئے درد سر ثابت ہوگا۔ کوئی بھی قائد اپنی سیاسی زمین سے محروم ہونے کیلئے آسانی سے تیار نہیں ہوگا۔ ایک مرتبہ کیا جانے والا سمجھوتہ ہمیشہ کیلئے سیاسی خودکشی ثابت ہوگا ۔ ان کی جانب سے نئی سیاسی پارٹی تشکیل دینے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 30 سال سے پارٹی میں ہیں۔ اگر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کے عہدہ پر دعویداری پیش کی ہے تو اس میں برائی یا غلطی کیا ہے۔ وہ ہائی کمان سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں، کانگریس پارٹی میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ کبھی وزیر بننے والے این کرن کمار ریڈی اچانک ریاست کے چیف منسٹر بن گئے تھے۔ ان کے چیف منسٹر بننے کا کسی کو خواب و خیال میں بھی گمان نہیں تھا ۔تلگو دیشم سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے کے پربھاکر ریڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو وینکٹ ریڈی نے کہا کہ وہ اتنے بڑے قائد نہیں ہیں کہ اس پر ردعمل کا اظہار کیا جائے، موجودہ رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اتنے بڑے قائد نہیں ہیں کہ اس پر ردعمل کا اظہار کیا جائے۔ جی سکھیندر ریڈی کو وہ 40,000 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دے چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT