Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس کے ڈھائی سالہ حکومت کا جشن منسوخ

ٹی آر ایس کے ڈھائی سالہ حکومت کا جشن منسوخ

مختلف پارٹیوں کے بشمول حکمراں جماعت کی سیاسی سرگرمیاں بھی متاثر
حیدرآباد۔/22نومبر، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے 500اور 1000 کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ سے جس طرح ہر شعبہ متاثر ہوا ہے اسی طرح برسر اقتدار ٹی آر ایس بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہی۔ مرکز کی جانب سے کرنسی کی تنسیخ کے اعلان کے ساتھ ہی ٹی آر ایس حکومت کے ڈھائی سال کی تکمیل کا جشن منسوخ کردیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈسمبر میں ٹی آر ایس حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہورہے ہیں اور پارٹی نے اس موقع پر بڑے پیمانے پر تقاریب اور جلسہ عام کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں پارٹی میں اندرونی طور پر تیاریاں بھی شروع کردی گئی تھیں۔ ٹی آر ایس قائدین حکومت کے ڈھائی سال کی تکمیل کو عوام کے درمیان پیش ہونے کا اہم ذریعہ تصور کررہے تھے تاکہ حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات سے واقف کرایا جاسکے۔ حکومت کے کارناموں کو عوام کے درمیان پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے دورہ اضلاع کے پروگرام کو بھی قطعیت دی جارہی تھی تاکہ اپوزیشن جماعتوں کی مخالف حکومت مہم کا جواب دیا جاسکے۔ پارٹی کی سطح پر یہ سرگرمیاں جاری تھیں کہ اچانک مرکز نے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ کردیئے جس کے ساتھ ہی یہ تیاریاں بھی ٹھپ پڑ چکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 500اور 1000 کے کرنسی نوٹ کے بغیر تقاریب کا انعقاد ممکن نہیں ہے ۔ ایسے وقت جبکہ ہر بڑا شخص کرنسی کی تبدیلی اور کالے دھن کو سفید میں تبدیل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے تقاریب کیلئے فنڈز کا حصول آسان نہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے پاس جو فنڈز موجود ہیں انہیں خرچ کرنے کیلئے نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے پڑیں گے۔ جشن و جلسوں کی تیاری پر بھاری اخراجات کے علاوہ اضلاع سے عوام کو اکٹھا کرنے کیلئے بھی بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ آر ٹی سی بسوں کو کرایہ پر حاصل کرنے کے علاوہ ہر شخص کو کم سے کم 200 روپئے دینے پڑتے ہیں۔ پارٹی قائدین نے جو اندازہ کیا ہے اس کے مطابق ایک جلسہ عام میں عوام کو اکٹھا کرنے پر 10تا15 کروڑ روپئے باآسانی خرچ ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کے پاس سوائے ان تقاریب کو ملتوی کرنے کے کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ ٹی آر ایس کے ایک قائد نے اعتراف کیا کہ کرنسی بحران نے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ٹی آر ایس کی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں ٹی آر ایس نے جمخانہ گراؤنڈ پر جو جلسہ عام منعقد کیا تھا اس میں عوام کو اکٹھا کرنے کیلئے ٹرانسپورٹیشن پر 14 کروڑ روپئے کا خرچ ہوا تھا۔

TOPPOPULARRECENT