ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام پر تلگودیشم کے بیان پر ردعمل

حیدرآباد۔/28ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے تلگودیشم قائدین کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام میں تاخیر کے سبب تشکیل تلنگانہ میں رکاوٹ ہورہی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے تلگودیشم تلنگانہ قائدین ای دیاکر راؤ اور ایم نرسمہلو کے بی

حیدرآباد۔/28ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے تلگودیشم قائدین کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام میں تاخیر کے سبب تشکیل تلنگانہ میں رکاوٹ ہورہی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے تلگودیشم تلنگانہ قائدین ای دیاکر راؤ اور ایم نرسمہلو کے بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلگودیشم قائدین کس بنیاد پر اس طرح کے بیانات جاری کررہے ہیں جبکہ انضمام ٹی آر ایس کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے تلگودیشم قائدین سے سوال کیا کہ کیا صدر کانگریس سونیا گاندھی نے انہیں یہ بات کہی؟۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان کی جانب سے ابھی تک اس طرح کا کوئی بیان نہیں آیا کہ ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام کے بعد ہی تلنگانہ ریاست تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے تلگودیشم قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس کے اندرونی معاملات پر رائے زنی سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ تلگودیشم تلنگانہ قائدین کو چاہیئے کہ وہ ٹی آر ایس اور اس کے سربراہ پر تنقید کرنے کے بجائے تشکیل تلنگانہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے پارٹی صدر چندرا بابو نائیڈو کے خلاف احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو ہی تشکیل تلنگانہ میں اصل رکاوٹ ہیں اور تلگودیشم کے تلنگانہ قائدین میں جرأت نہیں کہ وہ پارٹی قیادت کو تلنگانہ کی تائید کیلئے مجبور کریں۔ مرکزی حکومت کو تلنگانہ کے حق میں مکتوب روانہ کرنے والے چندرا بابو نائیڈو مرکز کی جانب سے فیصلہ کے ساتھ ہی سیما آندھرا کے ساتھ مساوی انصاف کا نعرہ لگاکر ریاست کی تقسیم کے عمل میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ ہریش راؤ نے چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے تنہا ملاقات پر بھی شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ہوئی ملاقات کی تفصیلات سے عوام کو واقف کرایا جائے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس اور چندر شیکھر راؤ کی جدوجہد کے نتیجہ میں ہی تشکیل تلنگانہ کا عمل آخری مرحلہ پر پہنچا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئندہ انتخابات سے قبل نئی ریاست تشکیل پاجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT