Wednesday , May 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس ۔ بی جے پی خفیہ معاہدہ کے ذریعہ تیسرے محاذ کی تشکیل

ٹی آر ایس ۔ بی جے پی خفیہ معاہدہ کے ذریعہ تیسرے محاذ کی تشکیل

تحفظات کے نام پر مسلمانوں اور قبائیلیوں کو گمراہ کرنے کے سی آر پر الزام : جیون ریڈی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی نے مسلمانوں اور قبائیلیوں کو گمراہ کرنے کے بجائے تحفظات کے لیے سنجیدہ ہے تو اپنے ارکان پارلیمنٹ سے استعفیٰ دلانے کا چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا ۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ تمام شعبوں میں ناکام ہونے والے چیف منسٹر کے سی آر اپنی اور بی جے پی کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے بی جے پی کے ساتھ طئے پائے خفیہ معاہدے کے تحت تھرڈ فرنٹ کا شوشہ چھوڑتے ہوئے تحفظات کے نام پر مصنوعی احتجاج کرنے کا ٹی آر ایس پر الزام عائد کیا ۔ جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نیرو مودی کی بدعنوانیوں کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موضوع بحث بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مرکزی حکومت کو بدنامی سے بچانے کے لیے کے سی آر کو آلہ کار کے تحت استعمال کیا ۔ خفیہ معاہدے کے تحت پہلے کے سی آر نے تھرڈ فرنٹ کا شوشہ چھوڑا اس کے بعد ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کو دونوں ایوانوں میں تحفظات کی توسیع کے اختیارات ریاستوں کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرارہے ہیں ۔ پارلیمنٹ کی کارروائی بار بار ملتوی ہونے سے نیرو مودی کا اسکام موضوع بحث بننے سے قاصر ہے اور ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ مسلمانوں اور قبائیلیوں کے تحفظات کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹی آر ایس 4 سال بعد بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہی ہے ۔ اگر ٹی آر ایس مسلم اور قبائلی تحفظات کے لیے سنجیدہ ہے تو چیف منسٹر کے سی آر اپنے ارکان پارلیمنٹ سے استعفیٰ دلاتے ہوئے مسلمانوں اور قبائیلیوں میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ جیون ریڈی نے کہا کہ 4 سال تک کے سی آر نے ہر مسئلہ پر نریندر مودی کی غیر مشروط تائید کی ہے ۔ جس کے بدلے میں مرکز سے تلنگانہ کو کوئی رعایت حاصل ہوئی ہے نہ سہولتیں ۔ یہاں تک کہ تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے ان میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا ۔ کے سی آر کی بدعنوانیوں سے وزیراعظم نریندر مودی واقف ہے ۔ اس کی تحقیقات سے بچنے کے لیے کے سی آر مرکز کے ہر فیصلے کی تائید کی ہے ۔ پٹرول ، ڈیزل اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے غریب عوام اور متوسط کاروباری ادارے متاثر ہونے پر بھی کے سی آر نے عوام کے مفادات کے بجائے مرکزی حکومت کی تائید کی ہے ۔ یہ سب خفیہ معاہدے کا ہی ایک حصہ ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT