Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس ‘ مرکزی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہاں

ٹی آر ایس ‘ مرکزی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہاں

چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ بھی مل کر کام کیا جائیگا ۔ کے سی آر کے فرزند کے ٹی راما راؤ کا انٹرویو

چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ بھی مل کر کام کیا جائیگا ۔ کے سی آر کے فرزند کے ٹی راما راؤ کا انٹرویو

حیدرآباد 19 مئی ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ راشٹرا سمیتی ملک کے ہونے والے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے ساتھ دوستانہ ‘ بہتر اور صحتمندانہ تعلقات رکھنا چاہتی ہے اور وہ ساتھ ہی آندھرا پردیش ریاست سے بھی کوئی تصادم والا رویہ اختیار نہیں کریگی تاہم پارٹی تلنگانہ کے حقوق حاصل کرنے ہر ممکن جدوجہد کریگی ۔ پارٹی کے رکن اسمبلی و صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ کے فرزند کے ٹی راما راؤ نے یہ بات بتائی ۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومت مرکز کے ساتھ اچھے اور صحتمندانہ تعلقات بنانے کی اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کریگی اور اس امید کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت بھی نئی تشکیل پانے والی ریاست تلنگانہ کی مدد کریگی ۔ کے ٹی راما راؤ نے پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے کل کے چندر شیکھر راؤ کو فون کیا اور تلنگانہ میں ان کی کامیابی پر مبارکباد دینے کے علاوہ اپنی حلف برداری تقریب کیلئے کے سی آر کو مدعو کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہم تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے تعلق سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ ہم یقینی طور پر نئے وزیر اعظم سے دوستی رکھنا چاہیں گے اور ان کی ٹیم سے بھی تعلقات رکھیں گے اور ان کے ساتھ آئندہ پانچ سال تک مل کر کام کرینگے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریاتی اور سیاسی اختلافات چاہے کچھ بھی ہوں اب وقت ہے کہ ہم ایک ساتھ ہوجائیں کیونکہ بالآخر عوام نے انہیں اور ہمیں بھی ووٹ دیا ہے ۔ ایسے میں اب ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہے ۔ ٹی آر ایس نے تلنگانہ میں اپنے بل بوتے پر انتخابات لڑے تھے اور اسے 63 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ اس نے لوک سبھا کی گیارہ نشستیں بھی حاصل کی ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا ٹی آر ایس مرکزی حکومت کو مسائل پر مبنی تائید فراہم کریگی کے ٹی آر نے کہا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہم مرکزی حکومت کے مدد گار رہیں گے اور امید کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت بھی نئی تشکیل پانے والی ریاست کی مدد کریگی ۔ وہ سیاسی تائید کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ وہ اخلاقی تائید کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ وہ صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ آپ کو کس طرح کام کرنا چاہئے اور مرکزی حکومت کو کس طرح ریاست کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کی صحتمندانہ عزت کرنی چاہئے کیونکہ ہم ملک کے عوام کے منتخب کردہ ہیں۔ ایسے میں ہم کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ عوام نے اس کی تائید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی حکومت نہ صرف تلنگانہ کیلئے ایک پیکج کا مرکز سے مطالبہ کریگی بلکہ ریاست کیلئے سیما آندھرا کی طرز پر خصوصی موقف کا بھی مطالبہ کیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ پرانہیتا ۔

چیوڑلہ اور پالمورو آبپاشی پراجیکٹس کو قومی موقف دینے کا مطالبہ بھی کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے سیما آندھرا کو خصوصی موقف دیا ہے جبکہ علیحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کرنے والے علاقہ سے ناانصافی کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو بھی خصوصی موقف دیا جانا چاہئے ۔ ہم یقینی طور پر این ڈی اے سے اپیل کرینگے کہ تلنگانہ کو بھی خصوصی موقف دیا جائے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی آر ایس کی حکومت سیما آندھرا کے ساتھ تصادم والا رویہ اختیار نہیں کریگی اور چندرا بابو نائیڈو کی قیادت والی تلگودیشم کے ساتھ سیاسی اختلافات کو بھی بالائے طاق رکھ دیا جائیگا کیونکہ سیما آندھار کے عوام نے انہیں بھی وہاں اقتدار سونپا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تلگودیشم حکومت کے ساتھ روز اول ہی سے مل کر کام کرینگے ۔ ہم ایک ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ہم سب کو یقینی طور پر اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھنے ہونگے ۔ جس طرح تلنگانہ عوام نے ہمیں تائید فراہم کی ہے اسی طرح سیما آندھرا عوام نے تلگودیشم کو تائید فراہم کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اختلافات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT