Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس برسر اقتدار حکومت میں نظامیہ طبی دواخانہ کی مرمت و آہک پاشی

ٹی آر ایس برسر اقتدار حکومت میں نظامیہ طبی دواخانہ کی مرمت و آہک پاشی

عمارت کو مستحکم بنانے مزید رقم درکار ، ٹی آر ایس قائد راشد شریف کا دورہ دواخانہ ، مریضوں سے ملاقات
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز)قدیم شہر حیدرآباد کی آن بان اور شا ن تاریخی مکہ مسجد ‘ چارمینار اور آصفیہ شفاء خانہ کی عظیم اور قدیم عمارتیں ہیںجن کو پچھلے ساٹھ سالوں سے مسلسل نظر انداز کیاجاتارہا ہے اور مسلم حکمرانوں کے اس عظیم تاریخی ورثہ کی قیادت میںہمارے قائدین کی غفلت ان تاریخی عمارتوں کی تباہی کا سبب بنی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کے اقتدار میںآنے کے بعد نہ صرف آصفیہ شفا خانہ بلکہ تاریخی مکہ مسجد اور چارمینار کی آہک پاشی او رمرمت کے کاموں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی خصوصی دلچسپی اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمودعلی کے علاوہ ریاستی وزیرصحت ڈاکٹر سی لکشما ریڈی کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں آصفیہ شفا خانہ میں 80لاکھ کی لاگت سے کچھ ترقیاتی کام انجام دیئے گئے ۔ حالانکہ شفاء خانہ کی تعمیر او رمرمت کے لئے پانچ سے دس کروڑ روپئے درکار ہیںمگر قدیم شہر حیدرآباد سے عدم نمائندگی کے سبب شفاء خانہ کی تاریخی عمارت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ آصفیہ شفاء خانہ چارمینار کا دورہ کرنے کے بعد ٹی آر ایس گریٹر حیدرآباد انچارج راشد شریف نے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہاکہ شفاء خانہ کی عمارت کی تباہی کے ذمہ داروں کو مسلمانوں کی ترقی کا ورثہ کوس رہا ہے ۔ اپنے دور کے سب سے بڑے اسپتال جہاں پر عوام کو مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں ‘ انہیںادویات اور طعا م کی سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں مگر آج اس کا کوئی پرسان حال نہیںہے۔ جب کہ شفاء خانہ چارمینا ر ہندوستان کا پہلا او رواحد یونانی دواخانہ ہے جس کو اُردو زبان کے فروغ کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ مگر منظم طریقے سے پرانے شہر کی عظیم او رقدیم عمارت کو تباہ کردیا گیاہے۔ انہو ںنے کہاکہ دنیا میں لقوہ اور فالج کا سب سے بہترین علاج شفاء خانہ آصفیہ میںکیاجاتا ہے مگر سہولتوں کی کمی کے سبب یہ علاج اور معالجہ کاکام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ادوایات کی کمی کے سبب مریضوں کو باہر سے دوائیں خریدنا پڑرہا ہے جو قابل افسوس ہے اور یہ عمل پچھلے بیس پچیس سالوں سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ عملے کی کمی کی وجہہ سے مریضوں کے علاج میں بھی مشکلات پیدا ہورہی ہے جبکہ صفائی کے نام پر عملہ اسپتال میںموجود ہی نہیں ہے۔ اس عظیم اسپتال کی کھلی اراضی کو سیاحوں کے پارکنگ لاٹ میںتبدیل کردیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دواخانہ میںبیت الخلاء تو موجود ہیںمگر اس میںدروازے نہیںہیں اور مریضوں کے لئے بستر ‘ بیڈس ندارد ہیں۔ عمارت خستہ حالی کاشکا رہونے کی وجہہ سے بڑا حصہ استعمال میںنہیں ہے اوردیواروں ‘ چھت سے پانی رس رہا ہے ۔ مریضوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں جس کی وجہہ سے رات کے اوقات میںمریضوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ہر روز رات کے اوقات میں پندرہ سے بیس آوارہ کتے عمارت میںداخل ہوجاتے ہیں اور مریضوں کو پریشان کررہے ہیں۔یہاں تک عمارت کے ڈرنیج نظام اور پینے کی پانی سہولت بری طرح متاثر ہے۔ جناب راشد شریف نے مزیدکہاکہ یہی حال طبی یونانی کالج کا بھی ہے۔ جہاں پر انفراسٹرکچر کی کمی اور بنچوں پر ایک انچ سے زیادہ گردوغبار جمع ہے۔اوقات میں غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوںکی وجہہ سے ہاسٹل کی لڑکیوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس لیے رات کے اوقات میںدوسے تین مرتبہ ہاسٹل کے اطراف واکناف میں پولیس کی گشت ضروری ہے۔اس ضمن میںآثار قدیمہ کے ماہرین کی خدمات سے استفاد ہ کرتے ہوئے ایک رپورٹ تیار کی جائے گی اور رپورٹ کے چندرشیکھر رائو اور ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمودعلی کے حوالے کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ آصف جاہ سابع کے بعد جمہوری ہندوستان میںایک سکیولر اقدار کے چیف منسٹر کا کام اگر کسی نے کیاہے تو وہ چیف منسٹر ہیں جب کہ محمد محمودعلی اپنی خصوصی دلچسپی کے ذریعہ پرانے شہر کو ترقی یافتہ بنانے کوشاں ہیںمگر سیاسی مفادات کی خاطر حکومت تلنگانہ کو بدنام کرنے اور پرانے شہر کی ترقی میںرکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آصفیہ شفاء خانہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے اور اس کے ماضی کا احیاء عمل میںلانے کے لئے ہر محاذ پر حکومت سے نمائندگی کی جائے

TOPPOPULARRECENT