Tuesday , November 13 2018
Home / Top Stories / ٹی آر ایس کا انتخابی منشور پر عمل ندارد، 12 فیصد تحفظات پر ٹال مٹول

ٹی آر ایس کا انتخابی منشور پر عمل ندارد، 12 فیصد تحفظات پر ٹال مٹول

کے سی آر زیرقیادت حکومت میں بدعنوانیاں عروج پر
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، صدر پی سی سی اُتم کمار ریڈی کا دعویٰ
حیدرآباد 27 فروری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات دینے کے وعدے کو تقریباً 4 سال مکمل ہونے کے بعد بھی پورا نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ’’پرجا چیتنیہ یاترا‘‘ سے تلنگانہ میں خاموش انقلاب آئے گا۔ کانگریس بھاری اکثریت سے حکومت تشکیل دے گی اور ٹی آر ایس کا صفایا ہوجائے گا۔ آج تنڈور اور سنگاریڈی میں منعقدہ پرجا چیتنیہ یاترا کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں وزیر ٹرانسپورٹ مہندر ریڈی کو شکست ہوجائے گی اور سنگاریڈی صدر کانگریس راہول گاندھی کا پسندیدہ مقام ہے۔ ماضی میں ضلع میدک سے اندرا گاندھی نمائندگی کرچکی ہیں۔ 2014 ء کے انتخابی منشور میں ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ شاد نگر میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کے اندرون 4 ماہ 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا مسلمانوں سے کے سی آر نے وعدہ کیا تھا۔

4 سال مکمل ہونے پر بھی وعدہ پورا نہیں کیا جس سے حکومت کے خلاف تلنگانہ کے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ریاست میں آئندہ کانگریس کی حکومت قائم ہوگی اور سنگاریڈی کے لئے میڈیکل کالج منظور کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس کا چار سالہ دور حکومت مایوس کن ہے کیوں کہ بدعنوانیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انتخابی منشور میں کئے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ضلع میدک کی نمائندگی کرنے کے باوجود کے سی آر نے ضلع کی ترقی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ تلنگانہ کو پولیس راج میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ چار سال تک ٹی آر ایس حکومت نے زرعی شعبہ کو نظرانداز کیا جس کی وجہ سے 4 ہزار کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ آئندہ انتخابات میں سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لئے کے سی آر 4 ہزار روپئے زرعی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔ 4 سال سے کسانوں کو کاشت پر اقل ترین قیمت وصول نہیں ہوئی ہے۔ آبپاشی پراجکٹس کا ڈیزائن تبدیل کرتے ہوئے ریاست کو لوٹ لیا جارہا ہے۔ کانگریس کو اقتدار حاصل ہوتے ہی کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرضہ جات معاف کردیئے جائیں گے اور سماج کے تمام طبقات سے انصاف کیا جائے گا۔ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ تین ہزار روپئے بے روزگاری بھتہ فراہم کیا جائے گا۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت مختلف محکمہ جات میں 1.7 لاکھ جائیدادیں مخلوعہ تھیں۔ 4 سال کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے صرف 12 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کو چھوٹا مودی اور دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ کی کابینہ میں ایک خاتون کو بھی شامل نہیں کیا گیا مگر تلنگانہ کے 6 غداروں کو شامل کرتے ہوئے تلنگانہ تحریک میں شامل رہنے والے عوام کی توہین کی گئی ہے۔ انھوں نے کہاکہ 2004 ء میں کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

عدالتی کشاکش کے بعد 4 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے جس سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ ہوا۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر 4 سال میں بھی وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ کو کبھی پارلیمنٹ میں نہیں اُٹھایا اور نہ ہی کے سی آر نے ابھی تک مرکز سے آر پار کی لڑائی شروع کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ ٹی آر ایس ذہنی سطح پر کھوکھلی ہوچکی ہے۔ جب بھی انتخابات ہوں گے کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ ٹی آر ایس کے سروے میں ہی اس بات کے اشارے ملے ہیں۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہاکہ کانگریس کے جلسوں میں عوام کے سروں کے سمندر کو دیکھ کر اندازہ ہوگیا ہے کہ آئندہ کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے حکومت تشکیل دے گی۔ تلنگانہ میں جو بھی ترقیاتی و تعمیری کام ہیں وہ سب کانگریس کی مرہون منت ہے۔ کانگریس نے کیا کیا ہے، ٹی آر ایس بچکانی سوال کررہی ہے۔ ملک کو فاضل برقی پیدا کرنے کا اعزاز کانگریس کو ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت ایک یونٹ برقی پیدا کرنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔ نظام شوگر فیاکٹری کا ابھی تک احیاء نہیں ہوا۔ ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں کانگریس کی مدد کرنے کی انھوں نے عوام سے اپیل کی۔ ڈبل بیڈ روم مکانات اور 12 فیصد مسلم تحفظات کو فراموش کردینے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے گزشتہ 4 سال میں تلنگانہ کو لوٹ کر اپنے خزانے بھرنے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا۔ ٹی آر ایس کے 4 سالہ دور حکومت میں تلنگانہ 2 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض ہوجانے کا دعویٰ کیا۔ خواتین کی سیلف ہیلپ گروپ کو بے جان کرنے روزگار کو نظرانداز کرنے وعدوں سے انحراف کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا۔ ملک میں سکریٹریٹ نہ پہونچنے والے کے سی آر واحد چیف منسٹر ہونے کا بھی ادعا کیا۔ سکریٹری اے آئی سی سی و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو بڑا اور چیف منسٹر کے سی آر کو چھوٹا چور قرار دیا اور کہاکہ اگر کانگریس پارٹی علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں دیتی تو کے سی آر کی فیملی بھیک مانگتی تھی۔ انتخابی فائدے کے لئے کسانوں کے ساتھ مگرمچھ کے آنسو بہانے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا۔ ورکنگ پریسڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملو بٹی وکرامارک نے کانگریس کی پرجا چیتنیہ یاترا ٹی آر ایس کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں ٹی آر ایس کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں ٹی آر ایس حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے۔ کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ انھوں نے کہاکہ حضور نظام اور انگریزوں کے دور کے علاوہ اندرا گاندھی کے قتل پر بھی سنگارینی کو کبھی تعطیل نہیں دی گئی لیکن آج چیف منسٹر کے سی آر کے جلسہ عام کے لئے سنگارینی کالریز کو تعطیل دینے کا الزام عائد کیا۔ ایک دن بھی سنگارینی کالریز کی سرگرمیاں روک دینے سے سرکاری خزانے کو بہت بڑا نقصان پہونچنے کا دعویٰ کیا۔

TOPPOPULARRECENT