Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / ٹی آر ایس کی کامیابیاں

ٹی آر ایس کی کامیابیاں

اگرچہ عشق کرنا ہے تو پروانہ صفت بن جا
بظاہر عشق کرنا تو بڑا آسان ہوتا ہے
ٹی آر ایس کی کامیابیاں
ورنگل ‘ کھمم بلدیات اور اچم پیٹ کارپوریشن کے نتائج منظر عام پر آگئے ۔ حسب توقع یہاں بھی ریاست میں برسر اقتدار تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ تینوں ہی کارپوریشنوں میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی طرح اپوزیشن جماعتوں کا صفایا ہوگیا ۔ اپوزیشن کا وجود ہی تقریبا ختم ہوگیا ہے ۔ کھمم میں کانگریس نے قدرے اپنے وجود کا احساس ضرور دلایا ہے لیکن وہ یہاںٹی آر ایس کو شاندار کامیابی حاصل کرنے سے نہیںروک پائی ۔ ورنگل میں ہوئے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کی تازہ ترین کامیابی کے بعد یہی امید کی جا رہی تھی کہ ٹی آرایس کو یہاںکامیابی ملے گی اور اس نے یہاں کامیابی توقعات کے عین مطابق حاصل کرلی ہے ۔ یہاں کانگریس نے صرف چار وارڈز سے کامیابی درج کروائی ہے جبکہ ریاست کی دوسری مسلمہ جماعتیں یہاں یکسر ناکام ہوگئی ہیں اور ورنگل کے عوام نے انہیںپوری طرح سے مسترد کردیا ہے ۔ کھمم میں کانگریس کو کچھ نشستیں ضرور حاصل ہوئی ہیںاور لیکن یہ اتنی کامیابی ہے جس سے کانگریس کی ریاست میں کھوئی ہوئی ساکھ بحال نہیںہوسکتی ۔ اس کے نتیجہ میں پارٹی کے کارکنوں ‘ قائدین و کیڈر میں کسی طرح کا جوش و خروش پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ مقامی سطح پر ضرور کانگریس نے اپنے وجود کو برقرا ر رکھا ہوا ہے اور وہاں وہ کسی حد تک عوامی حلقوں میں اپنے وجود کا احساس دلاتی رہ سکتی ہے ۔ ریاست میں دوسری جو جماعتیں ہیں وہ سب بتدریج اپنا وجود کھوتی جا رہی ہیں۔ بی جے پی کا تو ریاست تلنگانہ میں بہت برا حال ہوا ہے اور اس کے قائدین و کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے ۔ اب پارٹی کے ریاستی صدر کو تبدیل کرنے کی مہم چل رہی ہے اور پارٹی کی حالت ایسی ہے کہ بعض قائدین تو اس قیادت کو قبول کرنے سے تک بھی گریز کر رہے ہیں۔پارٹی کو سب سے زیادہ تشویش ہے کہ مرکز میں اپنا اقتدار رکھتے ہوئے بھی تلنگانہ میں وہ اپنی ساکھ کھوتی جا رہی ہے اور اس کیلئے ریاستی قیادت کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔ جہاں تک تلگودیشم کا تعلق ہے ایسا لگتا ہے کہ پارٹی نے تلنگانہ میں پارٹی کے عملا صفایا کو تقریبا قبول کرلیا ہے اور اس کے ارکان اسمبلی دھیرے دھیرے ٹی آر ایس میں شامل ہوتے جا رہے ہیں اور پارٹی قیادت تماشا دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی ہے ۔
ٹی آر ایس کو اسمبلی انتخابات میں ملنے والی جیت اس کی شاندار کامیابیوں کی ابتداء تھی ۔ اسمبلی میں کسی کی تائید کے بغیر اپنے بل پر حکومت تشکیل دینے کے بعد عملا اس نے جی ایچ ایم سی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی تھیں اور یہ تیاریاں رنگ بھی لائیں ۔ جی ایچ ایم سی میں بھی ٹی آر ایس کو جو کامیابی ملی ہے وہ مثالی ہے اور یہاں اس نے کسی کی تائید کے بغیر مئیر اور ڈپٹی مئیر دونوں ہی کے عہدے حاصل کرلئے تھے ۔ جہاں تک ٹی آر ایس پارٹی قیادت کا تعلق ہے وہ پوری حکمت عملی کے ساتھ پارٹی کے اقتدار کو مستحکم کرنے میںمصروف ہے ۔ جہاں دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو اپنی صفوں میں شامل کیا جا رہا ہے وہیں وقفہ وقفہ سے ملنے والی انتخابی کامیابیوں سے بھی پوری طرح فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو عوامی سطح پر اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں پوری کامیابی مل رہی ہے ۔ ٹی آر ایس کی کامیابیوں نے ریاست بھر میںاپوزیشن کے حوصلوں کو پست کردیا ہے ۔ دھیرے دھیرے اپوزیشن کاصفایا ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ کانگریس پارٹی اپنی بساط کے مطابق ٹی آر ایس سے مقابلہ کی کوشش کررہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اسے کامیابی نہیں مل رہی ہے لیکن یہ اندیشے بھی پیدا ہونے لگے ہیں کہ تلنگانہ میں تلگودیشم کے تقریبا صفائے کے بعد انحراف کی حوصلہ افزائی کی کوششوں سے کانگریس بھی متاثر ہوسکتی ہے ۔ ان ہی اندیشوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے وقفہ وقفہ سے جہاں بھی انتخابات ہوئے اپنی پوری طاقت جھونکتے ہوئے مقابلہ کیا لیکن اسے کامیابی سے محروم ہی رہنا پڑا ہے ۔
ٹی آر ایس نے مسلسل جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ جہاں پارٹی کیلئے بہت اچھی بات ہے وہیں پارٹی پر ان کامیابیوں کے ساتھ بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوجاتی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت نے ریاست میں عوام سے وعدے بھی بہت کئے ہوئے ہیںاور عوام چاہتے ہیں کہ حکومت کو ان وعدوں کی تکمیل کیلئے وقت دیا جائے موقع دیا جائے ۔ مختلف اسکیمات کا آغاز ہو یا پھر دو بیڈ روم مکانات کی فراہمی کا وعدہ ہو اس میں عوام کیلئے کشش ہے ۔ حکومت نے ان اسکیمات پر سنجیدگی سے عمل آوری کے اشارے بھی دئے ہیں اور یہ اس کی ذمہ داری ہے ۔ کے سی آر حکومت اگر وعدوں کو پورا کرنے کا قصد کرتی ہے تو اسے عوام کا اعتماد حاصل رہے گا اور جب حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرنے سے گریز کریگی تو پھر اسے بھی عوامی مخالفت کا مزہ چکھنا پڑیگا ۔ اس معاملہ میں ٹی آر ایس کو دوسری جماعتوں کے حشر کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT