Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / !ٹی آر ایس کے ایک رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے

!ٹی آر ایس کے ایک رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے

ضمنی انتخابات میں دوبارہ پارٹی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ، ٹی آر ایس کی مقبولیت کا پتہ چلانے کے سی آر کی حکمت عملی
حیدرآباد 12 ستمبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی و چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ 2019 ء میں منعقد شدنی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شاندار کامیابی کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کا قبل ازوقت پتہ چلانے کیلئے وہ ایک نیا تجربہ بھی کرسکتے ہیں۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ دیگر پارٹیوں سے منحرف ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ایک رکن پارلیمنٹ، ایک رکن اسمبلی کو متعلقہ نشست سے استعفیٰ دینے کی ہدایت دی جائے گی اور پھر ضمنی انتخاب کروایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اِس نئے تجربے کے لئے رکن پارلیمنٹ نلگنڈہ جی سکھیندر ریڈی اور رکن اسمبلی مکتھل سی رام موہن ریڈی سے بات کی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ان دونوں کو اپنی نشست سے استعفیٰ کے لئے رضامند بھی کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ رکن پارلیمنٹ حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ جی سکھیندر ریڈی اور رکن اسمبلی مکتھل سی رام موہن ریڈی آئندہ دو یا تین دن میں مکتوب استعفیٰ بالترتیب اسپیکر لوک سبھا و تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کو پیش کردیں گے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ اور حلقہ اسمبلی مکتھل کے لئے ضمنی انتخاب کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس مستعفی ہونے والے دونوں امیدواروں کو ضمنی انتخابات میں پارٹی امیدوار کی حیثیت سے نامزد کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرشیکھر راؤ نے جی سکھیندر ریڈی کے سیاسی تجربے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُنھیں پہلے ہی ریاستی کسان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا کنوینر نامزد اور کابینی رتبہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اِس عہدہ کے لئے پارلیمانی رکنیت سکھیندر ریڈی کیلئے رکاوٹ بن سکتی ہے چنانچہ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اُس سے تین مقاصد حاصل ہوں گے۔ سب سے پہلا سکھیندر ریڈی کو کابینی رتبہ ملے گا۔ دوسرا منحرف رکن پارلیمنٹ کا جو داغ اُن پر لگا ہے وہ صاف ہوجائے گا اور تیسرا ضمنی انتخاب ٹی آر ایس کے لئے پری پول سروے کے مترادف ہوگا جس میں پارٹی کے موقف کا اندازہ کیا جاسکے گا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پارٹی کے دو منتخبہ قائدین کو مستعفی کرانے کے بعد دوبارہ اِسی حلقے سے منتخب کرواتے ہوئے کارکنوں کو یہ پیام دیں گے کہ ریاست میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ہے اور عوام میں اُس کی مقبولیت برقرار ہے۔ چیف منسٹر کے اِس اقدام سے اگر نتائج پارٹی کے حق میں آئیں تو اِس سے پارٹی کارکنوں کا حوصلہ بڑھے گا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوگی یہ تو ضمنی انتخاب کے نتائج سے ہی پتہ چلے گالیکن عوام میں پارٹی کی مقبولیت اور آئندہ انتخابات میں امکانات کے تعلق سے یہ ماقبل انتخابات سروے ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT