Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / ٹی آر ایس کے 40 اور جماعت کے 3 اراکین اسمبلی کی کامیابی مشکل

ٹی آر ایس کے 40 اور جماعت کے 3 اراکین اسمبلی کی کامیابی مشکل

نئے چہروں سے
کامیابی کی حکمت عملی
تیار کرنے حلیف اور حکومت کی منصوبہ بندی

حیدرآباد۔ 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) کیا پرانے شہر حیدرآباد میں مقامی سیاسی جماعت اپنا گرائونڈ کھونے لگی ہے؟ کیا 2019ء اسمبلی انتخابات میں مجلس کو اپنی موجودہ نشستوں کو بچانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا؟ کیا ٹی آر ایس آئندہ اسمبلی انتخابات میں مقامی سیاسی جماعت سے مفاہمت کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے گریٹر حیدرآباد کے اسمبلی حلقوں کے بارے میں کیے گئے سروے کے بعد سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے موقف کا جائزہ لینے اور ارکان اسمبلی کی مقبولیت کا پتہ چلانے کے لیے ضلع واری سطح پر سروے کا اہتمام کیا گیا۔ اس سروے میں کئی حیرت انگیز انکشافات منظر عام پر آئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے گزشتہ تین برسوں میں ابھی تک اس طرح کے تین سے زائد سروے کا اہتمام کیا اور اس کے لیے مختلف قومی اداروں کی خدمات حاصل کی گئی۔ ذرائع کے مطابق تازہ ترین سروے میں نہ صرف ٹی آر ایس بلکہ پرانے شہر میں اس کی حلیف پارٹی کے موقف میں کمزوری کا اشارہ دیا ہے۔ اس طرح ٹی آر ایس اور مجلس دونوں کے لیے یہ رپورٹ چونکا دینے والی ثابت ہوئی۔ سروے رپورٹ ملتے ہی چیف منسٹر نے اپنے قریبی رفقاء سے اس مسئلہ پر بات چیت کی اور حلیف جماعت کو بھی سروے کے نتائج سے واقف کیا گیا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ ٹی آر ایس کے موجودہ 80 ارکان اسمبلی میں 50 فیصد سے زائد ایسے ہیں جو گزشتہ تین برسوں میں اپنی عدم کارکردگی کے ذریعہ عوام میں غیر مقبول اور پارٹی کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں۔ ایسے ارکان اسمبلی کو کارکردگی میں سدھار کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا جاسکتا ہے اگر وہ اس مدت میں خود کو عوام میں مقبول ثابت کرنے میں ناکام رہیں تو وہ 2019ء میں پارٹی ٹکٹ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ غیر مقبول ارکان اسمبلی میں پرانے شہر کے 7 اسمبلی حلقوں کے تین ارکان اسمبلی کے نام شامل ہوئے ہیں جن کی کارکردگی سے سروے کے مطابق عوام مطمئن نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق سروے کی تفصیلات جب حکومت نے اپنی حلیف جماعت کو پیش کیں تو قیادت نے ابھی سے امیدواروں کی تبدیلی کی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قیادت نے 7 اسمبلی حلقوں میں بعض ارکان کو ٹکٹ سے محروم کرنے یا پھر حلقہ تبدیل کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے جس کا اظہار اپنے بااعتماد رفقاء سے کیا گیا۔ مقامی جماعت جو ٹی آر ایس کی تائید سے 2019ء میں نشستوں میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی تھی اسے تازہ ترین سروے سے جھٹکہ لگا کیوں کہ اسے اپنی موجودہ نشستوں کو بچانا ہی دشوار کن دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں پرانے شہر کو ترقیاتی سرگرمیوں سے جس طرح نظرانداز کیا گیا اس سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ 2014ء اسمبلی انتخابات میں دو حلقے جات ایسے تھے جہاں مقامی جماعت کی کامیابی خطرے میں دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن اپنے روایتی انتخابی حربوں کا استعمال کرتے ہوئے کسی طرح دونوں حلقوں میں کامیابی حاصل کی گئی۔ عوام کی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پرانے شہر میں رائے دہی کا فیصد ہر الیکشن میں اضافہ کے بجائے گھٹتا جارہا ہے۔ موجودہ اسمبلی حلقوں میں مسلم اور اکثریت طبقے کے رائے دہندوں کی تعداد کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو عوامی ناراضگی کے چلتے قومی جماعت کو کم از کم تین اسمبلی حلقوں میں موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے نئے چہروں کو پیش کرنا پڑے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ٹکٹ سے محرومی کے احساس نے ارکان اسمبلی میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ خاص طور پر ایسے ارکان جو تین میعاد سے مسلسل منتخب ہورہے ہیں۔ ایسے ارکان کی جگہ نئے چہروں کی تلاش سرگرمی سے جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے ایک نامور تاجر کے فرزند کو اس اسمبلی حلقے سے ٹکٹ کا پیشکش کیا گیا جہاں گزشتہ انتخابات میں پارٹی کو سخت عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹی آر ایس کی جانب سے کیے گئے سروے کی بنیاد پر خود مقامی جماعت میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا تمام موجودہ 7 ارکان اسمبلی 2019ء میں دوبارہ ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ مقامی جماعت کے ارکان اسمبلی کے علاوہ کارپوریٹرس کی سرگرمیوں سے بھی عوام سخت ناراض ہیں۔ قیادت میں اگرچہ عوام کو خوش کرنے کے لیے عام جلسوں میں کارپوریٹرس کو دھمکیاں دیں لیکن کارپوریٹرس کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ارکان اسمبلی اور پھر کارپوریٹرس، دونوں کی سرگرمیاں اور عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکامی کا اثر سروے پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ان حالات میں کیا ٹی آر ایس 2019ء میں حلیف جماعت کو زائد نشستیں حاصل کرنے میں مدد کرے گی؟

TOPPOPULARRECENT