Wednesday , January 24 2018
Home / مضامین / ٹی ٹی سعودی عرب چاپٹر

ٹی ٹی سعودی عرب چاپٹر

کے این واصف

کے این واصف

کسی کام میں بھرپور توجہ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے اور وہی کام بھرپور توجہ سے آگے بڑھ کر دیوانگی کی حد کو پہنچ جائے تو انسان کامیابیوںکی حدوں کو چھولیتا ہے۔ دنیا میں ایسے بہت لوگ ہیںجو اپنی خواہش ، دلچسپی یا شوق کی تکمیل میں دیوانگی کی حد کو پہنچ جاتے ہیں۔ ان ہی میں ایک ٹیبل ٹینس کھلاڑی محمد ضیاالرحمن ہیں۔ ضیا الرحمان بچپن سے ٹیبل ٹینس کھیلتے رہے ہیںاور اس کھیل سے انہیں بے حد لگاؤ رہا۔ ضیاالرحمن نے انٹر اسکولس، انٹر کالج میں اپنی درسگاہوں کی نمائندگی کی اور وہ ٹیبل ٹینس میں آندھراپردیش اسٹیٹ کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔ ضیاالرحمن اپنی اعلیٰ تعلیم کے دباؤ کی وجہ سے اپنے پہلے عشق ٹیبل ٹینس کے میدان میں مزید بلندیوں کو نہ چھوسکے لیکن ان کے دل سے ٹیبل ٹینس کے شوق کی چنگاری کبھی بجھی نہیں۔ انہوں نے میکانیکل انجنیئرنگ کی ڈگری حل کی اور تلاش معاش میں سعودی عرب آگئے ۔ وہ اب یہاں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ریاض میں انڈین اسپورٹس کلب کے ممبر رہے اوریہاں بھی ٹیبل ٹینس کھیلتے رہے ، پھر سن 2010 ء میں انہوںنے نیو مڈل ایسٹ انٹرنیشنل اسکول کے تعاون سے ایک ٹیبل ٹینس اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا۔ ضیا الرحمن اس اکیڈیمی کے صدر اور کوچ ہیں جبکہ مسز تبسم فاروقی سرپرست ہیں۔ یہ اکیڈیمی نیو مڈل ایسٹ انٹرنیشنل اسکول ریاض کے احاطہ ہی میں قائم ہے۔ جہاںطلباء وطالبات کو باضابطہ ٹیبل ٹینس کی کوچنگ دی جاتی ہے اور ان برسوں میں سینکڑوں طلباء نے یہاں تربیت حاصل کی جن میں سے اب تک 11 طلباء و طالبات نے ہندوستان میں منعقد ہونے والے نیشنل گیمس میں بھی حصہ لیا جو اکیڈیمی کیلئے ایک قابل فخر بات ہے ۔ حال میں ٹیبل ٹینس کھیل کو ترقی دینے کی جستجو نے کامیابی کے سفر میں ضیاالرحمن نے ایک اور قدم بڑھایا ۔ انہوں نے سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن (CBSE) نئی دہلی اور ٹیبل ٹینس فیڈریشن آف انڈیا سے موثر نمائندگی کرتے ہوئے یہاں CBSE Table Tennis Saud Chapter کا قیام عمل میں لایا اور پچھلے دنوں ضیا الرحمن نے پرویز احمد نگران CBSE اسپورٹس ، سعودی عرب کی معاونت میں پہلا ’’سی بی ایس ای ٹیبل ٹینس سعودی چاپٹر ٹورنمنٹ کا انعقاد عمل میں لایا جس کی رپورٹ پیش ہے۔

ٹیبل ٹینس ٹورنمنٹ
ٹیبل ٹینس لٹل اسٹار محمد امان الرحمن نے پھرایک بار اپنالوہا منوایا۔ نیو مڈل ایسٹ انٹرنیشنل اسکول کے طالب علم امان الرحمن نے First CBSE Table Tennis Saudi Chapter Tournment میں تین زمروں کے ٹائٹلز جیت لئے جبکہ انٹرنیشنل انڈین اسکول دمام کی طلبہ زینب احمد نے اس ٹورنمنٹ کے دو ٹائٹلز جیت کر دوسرا مقام حاصل کیا۔ یہ ٹورنمنٹ نیو مڈل ایسٹ ٹیبل ٹینس اکیڈیمی ریاض کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ واضح رہے کہ اس اکیڈیمی کو انڈین فیڈریشن آف ٹیبل ٹینس اور سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن دہلی (CBSE) نے سعودی عرب Qualifying Matches کے انعقاد کیلئے سرکاری طور پر ذمہ دار گردانہ ہے ۔ ان میچز میں بہترین کھلاڑی (طلباء و طالبات) قرار پائے۔ فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سالانہ قومی مقابلوں میں حصہ لیں گے۔
ٹیبل ٹینس سعودی چاپٹر کے اس پہلے ٹورنمنٹ میں مملکت کے تمام انڈین اسکولس نے شرکت کی۔ اختتامی روز فائنل میںپہنچے بوائز اور گرلز کے درمیان فائنلز کے میچس منعقد ہوئے اور انعامات تقسیم کئے گئے۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن سکریٹری سفارت خانہ ہند تھے۔ پرنسپل نیو مڈل ایسٹ انٹرنیشنل ریاض و سرپرست ٹی ٹی اکیڈیمی محترمہ تبسم فاروقی نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ اکیڈیمی کے صدر و کوچ محمد ضیا الرحمن کی انتھک کاوشوں سے اکیڈیمی کو Qualifying Matches منعقد کرنے جیسی بڑی ذمہ داری حاصل ہوئی اور سعودی عرب میں زیر تعلیم ہندوستانی طلباء وطالبات کو وطن میں منعقد ہونے والے سالانہ قومی مقابلوں میں حصہ لینے کا مواقع میسر آیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن نے مملکت میں زیر تعلیم ہندوستانی طلباء میں ٹیبل ٹینس کے کھیل کی ترقی کو سراہا اور حالیہ عرصہ میں ان کی کامیابیوں کا ذکر کیا جنہوں نے ملک کے قومی مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات حاصل کئے ۔ ڈاکٹر حفظ الرحمن جو مملکت کے انڈین اسکولز کے نگران اور انتظامی کمیٹیوں میں سفارت خانہ ہند۔ریاض کے نمائندے ہیں ،نے تمام اسکولس کو ہدایت کی کہ وہ CBSE TT ٹورنمنٹ کو اسکول کے سالانہ کیلنڈر میں شامل رکھیں اور ان قومی مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے جانے والے طلباء کو انڈیا روانہ کرنے کیلئے اسکول میں خصوصی بجٹ مختص کریں۔ تقریب کے مہمان اعزازی ڈاکٹر شوکت پرویز پرنسپل انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض نے کہا کہ ہم ٹی ٹی اکیڈیمی کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ CBSE اسکولس کے طلباء کا قومی مقابلوں میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنا ایک اعزاز کی بات ہے ۔ آخر میں فزیکل ڈائرکٹر انٹرنیشنل انڈین اسکول جبیل نے شکریہ ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT