Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی ہب کا دوسرا مرحلہ سال 2018 تک مکمل ہوگا

ٹی ہب کا دوسرا مرحلہ سال 2018 تک مکمل ہوگا

ستمبر میں ٹکنالوجیکل فیسٹیول ، جیش رنجن اور دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔16مئی(سیاست نیوز) ٹی ۔ ہب کا دوسرا مرحلہ فروری 2018سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ 3لاکھ مربع فیٹ پر زیر تعمیر اس عمارت کی تکمیل کو حیدرآباد میں منعقد ہونے والی مجوزہ ورلڈ آئی ٹی کانگریس سے قبل تکمیل کر لی جائے گی۔ مسٹر جیش رنجن پرنسپل سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی حکومت تلنگانہ نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ ریاست کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر فروغ دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کا ٹی ۔ہب ماڈل ملک کی دیگر ریاستوں میں تیزی سے مقبولیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مسٹر جیش رنجن کیمپس پارٹی سی آئی ایم گلوبل اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے 14تا19ستمبر منعقد شدنی ٹیکنالوجیکل فیسٹیول کے متعلق پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران یہ بات بتائی۔  ستمبر میں منعقد ہونے والے ٹیک جیک فیسٹیول کے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ فیسٹیول ایشیاء میں پہلی مرتبہ ہندستانی شہر حیدرآباد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے انعقاد سے شہر میں ہنر مند نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران مسٹرایڈارڈو لوریا ڈائریکٹر کیمپس پارٹی ‘ مسٹر پرشانت سہا سی ای او (سی آئی ایم گلوبل) ‘مسٹر کے سرینواسن اور دیگر موجود تھے۔ مسٹر ایڈارڈو لوریا نے بتایا کہ اس پروگرام کا انعقاد مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والوں کو یکجا کیا جاتا ہے تاکہ آپس میں خیالات و تجربات کا تبادلہ ممکن ہو سکے اور ماہرین کے ذریعہ تربیت یافتہ نوجوانوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔  اس فیسٹ کے دوران 300مقررین کے علحدہ علحدہ سیشن ہوں گے اور اس پروگرام کا انعقاد 24X7 کے اساس پر ہوگا۔ 5روزہ ان تقاریب کے دوران 5تا7ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے اور ان کا قیام عارضی ٹینٹ میں ہوگا۔ ان تقاریب کے دوران تہذیبی و ثقافتی پروگرامس کا بھی انعقاد عمل میں لایا جائے گا جس میں شرکاء کے علاوہ نامور فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔مذکورہ پروگرام میں شرکت کے خواہشمند نوجوان کیمپس پارٹی کی ویب سائٹ پر اپنا رجسٹیشن کروا سکتے ہیں ۔مسٹر پرشانت سہا نے بتایا کہ ہندستان میں حیدرآباد کی ٹکنالوجی کے میدان میں بڑھتی مقبولیت کے سبب ملٹی نیشنل کمپنیاں حیدرآباد کا رخ کر رہی ہیں جس کے مثبت اثرات حیدرآباد و تلنگانہ میں سرماکاری اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جانے کے عمل پر پڑیں گے۔

TOPPOPULARRECENT