Friday , June 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / پارلیمانی امیدوار مدھو یشکی گوڑ کو چوتھا مقام

پارلیمانی امیدوار مدھو یشکی گوڑ کو چوتھا مقام

ٹی آر ایس لہر اور عوامی تائید سے محرومی اہم سبب

ٹی آر ایس لہر اور عوامی تائید سے محرومی اہم سبب

کورٹلہ /18 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد سے دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے مدھو یشکی گوڑ کو 2014ء کے عام انتخابات میں حلقہ اسمبلی کورٹلہ کے رائے دہندوں نے ان کا اصلی مقام بتادیا۔ حلقہ اسمبلی کورٹلہ میں ٹی آر ایس حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد کی امیدوار شریمتی کویتا کو جملہ 60,347، بھارتیہ جنتا پارٹی امیدوار ایڑلا لکشمی نارائنا کو 37,196، ملک معتصم خاں ویلفیر پارٹی امیدوار کو 23,878، کانگریس امیدوار مدھو یشکی گوڑ کو 21,002 ووٹ حاصل ہوئے۔ مدھو یشکی گوڑ کو حلقہ اسمبلی کورٹلہ میں چوتھا مقام حاصل ہوا۔ انھوں نے اپنے دس سال کے عرصہ میں کبھی حلقہ اسمبلی کورٹلہ کا رخ نہیں کیا۔ تاہم حالیہ انتخابات میں کوٹلہ کے مسلمانوں کی تائید کے لئے کورٹلہ کی معروف شخصیت پر دباؤ ڈالتے ہوئے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن اس معروف شخصیت کی تائید سے نہ تو کومی ریڈی راملو حلقہ اسمبلی کورٹلہ کے کانگریس امیدوار اور نہ ہی مدھو یشکی گوڑ حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد سے منتخب ہو سکے۔ انتخابی مہم کے دوران محمد عبد السلیم فاروقی نامہ نگار سیاست کورٹلہ نے انتخابی تجزیہ میں مسلم ووٹ کی تقسیم سے بھارتیہ جنتا پارٹی امیدوار کو فائدہ پہنچنے کی بات کہی تھی، جو بالکل درست ثابت ہوئی، کیونکہ 2010ء کے ضمنی انتخابات میں کلوا کنٹلہ ودیا ساگر راؤ ٹی آر ایس امیدوار کو 80 ہزار ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی تھی، جب کہ حالیہ اسمبلی انتخاب میں صرف 20,585 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی۔ حلقہ اسمبلی کورٹلہ میں مسلم ووٹ تین پارٹیوں میں تقسیم ہونے کے سبب سابق میں کورٹلہ ٹاؤن کے مسلمان جو بادشاہ گر کا موقف رکھتے تھے، حالیہ انتخابات میں ان کا موقف کمزور ہو گیا۔ تلنگانہ ریاست میں جہاں ٹی آر ایس کی لہر میں کانگریس پارٹی کے طاقتور قائدین کو شکست ہوئی، وہیں حلقہ اسمبلی کورٹلہ میں کلوا کنٹلہ ودیا ساگر راؤ ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کورٹلہ ٹاؤن کے قائدین کی تائید سے ٹی آر ایس کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہوا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کورٹلہ ٹاؤن کے قائدین ٹی آر ایس کے امیدواروں کی کامیابی کا سہرا اپنے سر لے رہے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانان کورٹلہ کے سامنے شریمتی کویتا ٹی آر ایس امیدوار حلقہ پارلیمنٹ کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نہیں تھا۔

TOPPOPULARRECENT