Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / پارلیمانی بجٹ سیشن کا ایک ماہ طویل وقفہ کے بعد آج سے دوبارہ آغاز

پارلیمانی بجٹ سیشن کا ایک ماہ طویل وقفہ کے بعد آج سے دوبارہ آغاز

نیرومودی اسکام پر حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان تلخ مباحث متوقع ، طلاق ثلاثہ اور مفرور معاشی مجرمین سے متعلق بلس کی منظوری حکومت کے ایجنڈہ میں شامل

نئی دہلی ۔ /4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن ایک ماہ طویل وقفہ کے بعد کل پیر سے دوبارہ شروع ہوگا جس میں تین ریاستوں میں متاثر کن کامیابی سے ایک نیا حوصلہ حاصل کرنے والی حکمراں جماعت کا اور پنجاب نیشنل بنک اسکام جیسے سنگین مسائل کو موضوع بنانے کیلئے تیار اپوزیشن سے آمنا سامنا ہوگا ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے کل سے شروع ہونے والے اجلاس میں قرض نادہندوں مفرور دھوکہ بازوں کے اثاثے قرق کرنے سے متعلق مفرور معاشی مجرمین بل کے علاوہ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری حکومت کے ترجیحی ایجنڈہ میں شامل ہے ۔ ہیرے جواہرات کے بیوپاری نیرومودی کی جانب سے پنجاب نیشنل بنک کو 12700 کروڑ روپئے کا دھوکہ دیتے ہوئے بیرون ملک فرار ہوجانے کے بعد حکومت نے معاشی مجرمین کو انصاف کے کٹھہیرے میں لانے اس بل کو منظوری دیدی ہے اور اب پارلیمنٹ میں منظوری کروانا چاہتی ہے ۔ لیکن اپوزیشن جماعتیں بینک کے ساتھ کی گئی اس دھوکہ دہی کے لئے حکومت کو مورد الزام ٹھہرارہی ہیں ۔ نیرو مودی کے علاوہ شراب کے تاجر وجئے ملیا کے واقعات کی مثال پیش کرتے ہوئے حکومت پر تنقیدی حملوں میں شدت پیدا کرچکی ہیں ۔ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان تلخ مباحث کا اندیشہ ہے ۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی پہلے ہی اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف تنقیدوں کا سلسلہ شروع کرچکے ہیں ۔ تاہم بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی) اسکام یو پی اے دور حکومت میں رونما ہوا تھا اور اب منظر عام پر آیا ہے ۔ پارلیمنٹ میں مختلف مسائل پر مقابلہ آرائی کیلئے حکمراں بی جے پی تریپورہ میں شاندار فتح ، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں اپنے متاثرکن مظاہرہ کے ساتھ کانگریس کی پسپائی سے ایک نئی توانائی حاصل کرچکی ہے اور توقع ہے کہ پارلیمنٹ میں جارحانہ تیور اختیار اپناتے ہوئے کانگریس کے دور میں ہوئے اسکامس کو موضوع بناسکتی ہے ۔ طلاق ثلاثہ بل جس میں ایسی طلاق دینے والے شوہر کیلئے سزائے قید کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ ایک اور اہم و حساس مسئلہ ہے ۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کے باوجود بی جے پی اس بل کو منظور کروانے پر بضد ہے ۔ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کمیشن بل بھی حکومت کے ترجیحی ایجنڈہ کا ایک اہم حصہ ہے ۔ اس بل کا مقصد او بی سی کمیشن کو دستوری موقف دلانا ہے ۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ میںمرکزی بجٹ پر بھی بحث ہوگی جو اس سیشن کے پہلے نصف حصے میں پیش کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT