Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / پارلیمانی حلقہ میدک سے ٹی آر ایس اور کانگریس امیدواروں کا پرچہ نامزدگی داخل

پارلیمانی حلقہ میدک سے ٹی آر ایس اور کانگریس امیدواروں کا پرچہ نامزدگی داخل

سنگاریڈی ۔27اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ پارلیمنٹ میدک کے ضمنی انتخابات کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آج آخری دن وقت ختم ہونے تک جملہ 14 پرچہ نامزدگیاں وصول ہوئیں ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آج آخری دن صبح 10بجے تا سہ پہر 3بجے تک کلکٹریٹ بلڈنگ سنگاریڈی میں امیدواروں اور سیاسی قائدین کی گہما گہمی دیکھی گئی ۔ امیدواروں نے اپنا پرچہ ن

سنگاریڈی ۔27اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ پارلیمنٹ میدک کے ضمنی انتخابات کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آج آخری دن وقت ختم ہونے تک جملہ 14 پرچہ نامزدگیاں وصول ہوئیں ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آج آخری دن صبح 10بجے تا سہ پہر 3بجے تک کلکٹریٹ بلڈنگ سنگاریڈی میں امیدواروں اور سیاسی قائدین کی گہما گہمی دیکھی گئی ۔ امیدواروں نے اپنا پرچہ نامزدگی انچارج کلکٹر ضلع میدک و ریٹرننگ آفیسر حلقہ پارلیمنٹ میدک ڈاکٹر اے شرتھ کے پاس داخل کیا۔ دوپہر 2بجے کانگریس پارٹی امیدوارہ وی سنیتا لکشما ریڈی سابق ریاستی وزیر نے وی ہنمنت راؤ رکن راجیہ سبھا ‘ بلرام نائیک سابق مرکزی وزیر ‘ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ‘ اتم پدماوتی اراکین اسمبلی ‘ محمد علی شبیر رکن قانون سازکونسل ‘ دامودر راج نرسمہا سابق نائب وزیراعلیٰ ‘ششی دھر ریڈی سابق رکن اسمبلی ‘ جئی کسم کمار جنرل سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی ‘ نندیشور گوڑ سابق رکن اسمبلی اور دیگر قائدین کے ہمراہ کلکٹریٹ بلڈنگ پہنچ کر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا جبکہ ان کا ایک سیٹ پرچہ نامزدگی جئے پال ریڈی صدرنشین ڈسٹرکٹ کوآپریٹیو سنٹرل بینک میدک نے بھی داخل کیا ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد کانگریس امیدوارہ وی سنیتا لکشما ریڈی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیاں ان کی انتخابی مہم کا موضوع اور کامیابی کی کلید ہوگی ۔ ٹی آر ایس پارٹی نے تین ماہ قبل منعقدہ انتخابات میں عوام کو بے شمار وعدوں کے سبز باغ دکھائے جن پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام نے انہیں اقتدار سونپا لیکن ٹی آر ایس پارٹی اقتدارپر فائز ہونے کے بعد عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو بھول گئی اور اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہوگئی ۔ ریاست تلنگانہ میں تمام فلاحی اور ترقیاتی کام ٹھپ ہوچکے ہیں ۔ طلباء و طالبات کو اسکالرشپس میں ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں کی جارہی ہے ۔ برقی کی قلت ٹی آر ایس دور حکومت میں بحران کی صورت اختیار کرچکی ہے ۔

پہلے 4گھنٹے کی برقی کٹوتی ہوتی تھی اب ٹی آر ایس دور میں 8گھنٹے کی برقی کٹوتی کی جارہی ہے ۔ برقی کٹوتی کے خلاف احتجاج کرنے پر کسانوں پر لاٹھی چارج کیا جارہا ہے ۔ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کا وعدہ کرنے والی ٹی آر ایس اب ایک لاکھ روپئے کی حد عائد کررہی ہے ۔ سلف ہیلپ گروپ خواتین کے قرضہ جات پر سود کی معافی کا وعدہ وفا نہیں ہوا ۔ مسلم اقلیتوں کو بری طرح نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے تاحال کوئی ٹھوس کام انجام نہیں دیا گیا صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیا جارہا ہے ۔ لینکو ہلز واپس حاصل کرنے کا ٹی آر ایس نے وعدہ کیا تھا لیکن اب تک کچھ بھی عملی کام نہیں کیا گیا ۔ کے سی آر نے حیدرآباد کی دعوت افطار میں اعلان کیا تکہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے ایک سہ رکنی کمیٹی تشکیل دیں گے جو آج تک نہیں دی گئی ۔ اردو زبان اور اردو میڈیم اسکولس و کالجس کے مسائل کی یکسوئی کیلئے کوئی پہل نہیں کی گئی ۔ آخر مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کا کام ٹی آر ایس حکومت کب شروع کرے گی ۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت پر شدید نکتہ چینی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ان حقائق کو عوامی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کانگریس کے حق میں ووٹ طلب کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔ ٹی آر ایس امیدوار کے پربھاکر ریڈی نے دوپہر 2.15 بجے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ ان کے ہمراہ ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ ‘ پدما دیویندر ریڈی ڈپٹی اسپیکر تلنگانہ اسمبلی ‘ بی بی پاٹل رکن پارلیمان حلقہ ظہیرآباد ‘ رام لنگا ریڈی ‘ چنتا پربھاکر ‘ بابو موہن اراکین اسمبلی موجود تھے ۔ بعد ازاں ٹی ہریش راؤ ریاستی وزیر نے سابق ایم ایل سی و صدر ضلع ٹی آر ایس ستیہ نارائنا کی قیامگاہ پر پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس امیدوار تقریباً 5لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ریاست تلنگانہ کو سنہرا تلنگانہ بنانے کیلئے کوشاں ہے

اور اسی سمت میں اقدامات کررہی ہے ۔ کسانوں کو قرضہ جات کی معافی اِن پُٹ سبسیڈی کی فراہمی ‘ ملازمین سرکار کو خصوصی تلنگانہ انکریمنٹ کی اجرائی ‘ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو مستقل بنانے جیسے کئی ایک تاریخی فیصلے کئے ہیں ۔ عوام کو صاف و شفاف کرپشن سے پاک نظم و نسق فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے ۔ مسلمانوں کو بہرصورت 12فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ ماہ رمضان میں مساجد کی مرمت اور آہک پاشی کیلئے پانچ کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ دوپہر ڈھائی بجے بی جے پی ‘تلگودیشم اتحادی امیداور ٹی جئے پرکاش ریڈی ( جگا ریڈی ) نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ بی جے پی تلگودیشم اتحاد کے تحت حلقہ پارلیمان میدک کی نشست بی جے پی کو مختص کی گئی لیکن بی جے پی نے اپنا امیدوارکا اعلان آج صبح 11.30بجے تک بھی نہیں کیا اور بی جے پی امیدوار پر تجسس برقرار رہا ‘ تاہم صبح 11.45 بجے بی جے پی میں ایک ڈرامائی تبدیلی آئی اور کانگریس قائد و سابق رکن اسمبلی سنگاریڈی کو بی جے پی میں شامل کرتے ہوئے انہیں اپنا امیدوار نامزد کیا ۔ واضح ہو کہ جگاریڈی نے اپنا سیاسی سفر بی جے پی سے ہی شروع کیا تھا اور بی جے پی سے کونسلر اور چیرمین بلدیہ منتخب ہوئے ۔ اس کے بعد 2004ء میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور ٹی آر ایس پارٹی ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔ ٹی آر ایس سے منحرف ہوکر 2009ء میں کانگریس ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے اور 2014ء میں کانگریس سے مقابلہ پر شکست سے دوچار ہوئے ۔ شکست کے بعد سے ہی ان کی بی جے پی میں شمولیت کی افواہیں زیرگشت تھیں جو بالآخر آج سچ ثابت ہوگئیں ۔ بتایا جاتا ہیکہ جگاریڈی کو ٹکٹ دلوانے میں مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو اور قومی جنرل سکریٹری بی جے پی مرلی دھر راؤ کی کاوشیں ہیں ۔ جگاریڈی کے ہمراہ بدم بال ریڈی بی جے پی ایم ایل اے ‘ ای دیاکر راؤ ‘ ریونت ریڈی ‘ کرشنا راؤ ‘ اراکین اسمبلی تلگودیشم پارٹی ‘ میرلائق علی قومی نائب صدر بی جے پی قلیتی مورچہ اور دیگر قائدین موجود تھے ۔ بی جے پی ‘ کانگریس اور ٹی آر ایس امیدوار ایک ہی وقت پر کلکٹریٹ سنگاریڈی پہنچے اور باب الداخلے پر تینوں امیدواروں کا آمنا سامنا ہوا ۔ اس موقع پر کارکنوں نے نعرے بازی کی لیکن اس سے کوئی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی ۔ آزاد امیدوار کی حیثیت سے سید عبدالحمید اور مشتاق احمد نے بھی پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔

TOPPOPULARRECENT