Thursday , October 18 2018
Home / سیاسیات / پارلیمانی کارروائی میں خلل ،بی جے پی کا ڈرامہ: سی پی ایم

پارلیمانی کارروائی میں خلل ،بی جے پی کا ڈرامہ: سی پی ایم

اپوزیشن کا سامنا کرنے سے گریز، فرائض سے فرار ہونے مودی حکومت کی کوشش، محمد سلیم کی پریس کانفرنس
نئی دہلی 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی (ایم) نے آج مودی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہاکہ پارلیمانی کارروائی کو متواتر ملتوی کرنے کے پیچھے بی جے پی کی ہی سازش ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی نے ڈرامہ بازی کرتے ہوئے عدم اعتماد تحریک پر بحث کرنے سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اپوزیشن کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہوئے مودی حکومت اپنے فرائض سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ لوک سبھا میں جاری تعطل کو ختم کرنے کے لئے نہ ہی وزارت پارلیمانی اُمور نے اور نہ ہی قائد ایوان نے سنجیدہ کوشش کی ہے۔ پریسائیڈنگ آفیسرس نے بھی اِس معاملہ کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی وزراء کو ایک ہی منتر پڑھاکر بٹھایا گیا تھا۔ یہ لوگ یہی کہتی رہے کہ حکومت غور و خوض کے لئے تیار ہے لیکن ایوان زیریں میں صورتحال اِس بات کی متقاضی نہیں ہے کہ کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ہر روز پارلیمنٹ کے اندر ایسی صورتحال پیدا کی جاتی رہی کہ جس سے کارروائی ہی نہ چل سکے۔ سی پی آئی (ایم) لیڈر محمد سلیم نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایوان کے اندر کارروائی نہ چلنے دینے کے لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی نے منظم طریقہ سے ڈرامہ بازی کی ہے۔ ایوان کے اندر انا ڈی ایم کے ارکان کی جانب سے اپنے مطالبات کی یکسوئی پر زور دیتے ہوئے احتجاج کیا گیا۔ کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے لئے فوری قدم اُٹھانے کے لئے یہ ارکان زور دیتے رہے، اس کی وجہ سے 8 مارچ سے شروع ہونے والا بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ گزشتہ 21 دن سے التواء کا شکار ہے۔ عوام کو درپیش اہم مسائل جیسے معیشت کی ابتری، کسانوں کا بحران، دلتوں کے مسائل، روزگار کی کمی اور کارپوریٹ گھرانوں کی لوٹ کھسوٹ، بینک اسکامس پر بحث کرنے سے حکومت راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ یہاں تک کہ فینانس بل کو بھی بحث کے بغیر منظور کیا گیا۔ جبکہ بجٹ سیشن کا سب سے اہم ایجنڈہ فینانس بل ہی ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام پر ایوان کی کارروائی کو ٹھپ کرنے کا دھبہ لگ چکا ہے۔ یہ لوگ پارلیمانی جمہوریت کو بدل کر کچھ اور ہی کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت دستوری اداروں کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے۔ نیشنل ڈیولپمنٹ کونسل، نیشنل انٹی گریشن کونسل یا سنٹر اسٹیٹ کونسل جیسے اہم اداروں کے اجلاس منعقد نہیں کئے گئے۔ جب سے بی جے پی اقتدار پر آئی ہے اِن اداروں کی اہمیت کو گھٹادیا گیا ہے۔ یہ حکومت کسی سے مشورہ کئے بغیر ہی من مانی فیصلے کررہی ہے۔ مغربی بنگال پنچایت انتخابات پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے ترنمول کانگریس پر غنڈہ ازم کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT