Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا آج آغاز‘ قیمتوںمیں اضافہ پر ہنگامہ آرائی کا امکان

پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا آج آغاز‘ قیمتوںمیں اضافہ پر ہنگامہ آرائی کا امکان

نئی دہلی۔ 6؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ نریندر مودی حکومت کی جانب سے پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے کل سے شروع ہونے والے ایک ماہ طویل بجٹ سیشن میں کئی ایک منصوبوں اورپالیسیوں کو متعارف کروایا جائے گا جبکہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے مسئلہ پر بجٹ سیشن کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کے پاس نئی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے کئی

نئی دہلی۔ 6؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ نریندر مودی حکومت کی جانب سے پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے کل سے شروع ہونے والے ایک ماہ طویل بجٹ سیشن میں کئی ایک منصوبوں اورپالیسیوں کو متعارف کروایا جائے گا جبکہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے مسئلہ پر بجٹ سیشن کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کے پاس نئی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے کئی مسائل موجود ہیں ان میںخاص کر حالیہ حکومت کی جانب سے سابق سالیسیٹر جنرل گوپال سبرامنیم کے نام کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کی فہرست سے خارج کردینے ‘ مرکزی وزیر نہال چند کے خلاف عصمت ریزی کیس کا تنازعہ اور ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم کے واقعات قابل ذکر ہیں ۔ بجٹ سیشن کے پہلے دن وزیر خارجہ سشما سوراج پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کو عراق میں ہندوستانیوں کی صورتحال سے واقف کروائیں گی جبکہ 8ریلوے بجٹ پیش ہوگا اسکے دوسرے دن معاشی سروے جاری کیا جائے گا ۔

مرکزی عام بجٹ برائے 2014-15ء 10جولائی کو پیش کیا جائے ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کا مسئلہ حکومت اورکانگریس کے درمیان متصادم کی نوبت پرپہنچے گا ۔ اگر یہ عہدہ اصل اپوزیشن پارٹی کو تفویض کرنے سے انکار کردیا جاتا ہے تو ایوان میں تکرار ہوگی ‘ کیونکہ کانگریس نے 543 رکن ایوان میں صرف 44 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ مختلف پارٹیوں کے قائدین نے قیتموں میں اضافہ ‘ ریل کرایوں میں اضافہ اور وفاقی ڈھانچہ کے مسائل پر حکومت سے نبردآزما ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا 14 اگست کو اختتام عمل میں آئے گا ۔ اس سیشن میں 28اجلاس ہوں گے اور 168 گھنٹے کام کیا جائے گا جبکہ مختلف وزارتوں کی اسٹانڈنگ کمیٹیاں ابھی تشکیل نہیں دی گئی ہیں۔ 31جولائی تک دونوں ایوان کی جانب سے مختلف وزارتوں کیلئے مطالبات زر کو منظوری دی جائے گی ۔ پارلیمانی اُمور کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت کسی بھی مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار ہے ۔

انہوں نے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کیہے تاکہ پارلیمنٹ کے وقار اور تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے کارروائی پُرسکون انداز میں چلائی جاسکے ۔ حکومت اس سیشن میں بلس بھی پیش کرنے والی ہے جس سے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹ آف انڈیا ( ترمیم ) آرڈیننس 2014ء کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ پولاورم پراجکٹ کے آرڈیننس کو بھی ترمیم کے ساتھ پیش کیا جائے گا ۔ آندھراپردیش ری آرگنائزیشن ( ترمیمی ) آرڈیننس 2014کے تحت یہ نیا آرڈیننس لایا گیاہے ۔ لڑائی( ترمیمی) آرڈیننس بل 18مئی کو منظور ہوا ہے جس کی مدد سے حکومت مسٹر مہیندرا مشرا کو پرنسپال سکریٹری برائے وزیراعظم مقرر کرسکیں ۔ ترنمول کانگریس اور اس کی کٹر حریف بائیں بازو پارٹیوں نے پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر مطالبہ کیا کہ ریل اور عام بجٹ کی پیشکشی کے بعد ان مسائل پر سب سے پہلے بحث کی جائے ۔ سی پی آئی ایم لیڈر پی کروناکرن نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر مباحث کیلئے شدید زور دیاہے۔

TOPPOPULARRECENT