Thursday , June 21 2018
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا کل آغاز، ہنگامہ خیز ہونے کا امکان

پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا کل آغاز، ہنگامہ خیز ہونے کا امکان

نئی دہلی 21 فروری (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا پیر سے آغاز ہورہا ہے۔ اپوزیشن کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے امکان غالب ہے کہ یہ بجٹ سیشن ہنگامہ خیز رہے گا۔ نریندر مودی کے لئے آرڈیننس کی تبدیلی کے ساتھ 6 بلوں کی منظوری یقینا ایک مشکل مرحلہ ہوگا کیوں کہ ایوان بالا میں حکومت کو اپوزیشن کے سخت احتجاج و اعتراض کا سامنا ہے۔ دہلی میں

نئی دہلی 21 فروری (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا پیر سے آغاز ہورہا ہے۔ اپوزیشن کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے امکان غالب ہے کہ یہ بجٹ سیشن ہنگامہ خیز رہے گا۔ نریندر مودی کے لئے آرڈیننس کی تبدیلی کے ساتھ 6 بلوں کی منظوری یقینا ایک مشکل مرحلہ ہوگا کیوں کہ ایوان بالا میں حکومت کو اپوزیشن کے سخت احتجاج و اعتراض کا سامنا ہے۔ دہلی میں سیاسی ہزیمت کے بعد حکمراں بی جے پی کے خلاف کئی اپوزیشن پارٹیوں نے عملاً مودی کے ’’آرڈیننس راج‘‘ کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے۔ خاص کر اپوزیشن نے مہنگائی دفعات کے ذریعہ اراضی قانون میں تبدیلی لانے کی مخالفت کی ہے۔ 3 ماہ طویل چلنے والے اس بجٹ سیشن کی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے کہاکہ حکومت کا یہ پہلا مکمل بجٹ سیشن ہوگا جس میں بجٹ پیش کیا جائے گا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ حکومت کو نشانہ بنانے کے لئے کافی مواد موجود ہے۔

بی جے پی کے بعض قائدین اور سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان کے متنازعہ بیانات سے لے کر افراط زر اور مہنگائی کے مسئلہ کو بھی اُٹھانے کا اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے کئی اپوزیشن قائدین کے ساتھ عقبی چیانل کے ذریعہ بات چیت کی ہے لیکن اپوزیشن کی جانب سے ایسی کوئی نرمی نہیں دی جائے گی کہ حکومت کو من مانی کرنی پڑے۔ پارلیمانی اُمور کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے اتوار کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن قائدین کا ایک اجلاس طلب کیا ہے تاکہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے قبل معمول کی مشاورت کی جاسکے۔ بجٹ سیشن کے ہنگامہ خیز ہونے کے امکان کے پیش نظر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو ڈنر اجلاس میں مدعو کیا ہے۔ اس دن منعقد ہونے والے اس ڈنر اجلاس میں اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن قائدین سے خواہش کی جائے گی کہ وہ ایوان کی کارروائی کو پُرسکون طریقہ سے چلانے میں مدد کریں۔

سیشن کا پہلا مرحلہ 20 مارچ تک جاری رہے گا اور دوسرا مرحلہ ایک طویل وقفہ کے بعد 20 اپریل سے شروع ہوگا۔ یہ سیشن 8 مئی کو اختتام کو پہونچے گا۔ حکومت کو بجٹ سیشن کے پہلے حصہ میں ہی آرڈیننس پر 6 بلوں کو منظور کرانا ہے۔ این ڈی اے حکومت پر اندرونی طور پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انشورنس اور کوئلہ شعبوں میں آرڈیننس کے لئے زور دے۔ حکومت نے بجٹ سیشن کے لئے 44 ایجنڈے تیار کئے ہیں۔ ان میں مالیاتی لیجسلیٹیو ، نان لیجسلیٹیو کارروائی بھی جاری رہیں گی۔ بجٹ سیشن کا پہلا مرحلہ 26 دنوں پر مشتمل ہوگا اور دوسرا حصہ 19 دن کا مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ سیشن کے لئے آغاز سے ایک دن قبل 23 فروری کو سابق دیہی ترقی وزیر جئے رام رمیش نے اتوار کو ضلع نگر کے موضع میں جلسہ سے خطاب کریں گے اور آرڈیننس و قانون پر حکومت کی من مانی کی اجازت نہیں دیں گے۔ گاندھیائی نظریہ کے حامل رہنما انا ہزارے اور دیگر ارکان کسانوں کی خودکشی کے علاوہ دو روزہ احتجاجی پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا جس میں تمام قائدین شرکت کریں گے۔ اروند کجریوال نے بھی پیر سے جنتر منتر پر شروع ہورہی مخالف آرڈیننس احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT