Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا کل سے آغاز‘ ہنگامہ خیز ہونے کا امکان

پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا کل سے آغاز‘ ہنگامہ خیز ہونے کا امکان

جواہرلال نہرو یونیورسٹی اور حیدرآباد میں دلت اسکالر کی خودکشی کا مسئلہ چھایا رہے گا
نئی دہلی۔21فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا منگل سے ہنگامہ خیز آغاز ہوگا ۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میںدلت اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی جیسے مسائل پر گرما گرم بحث و مباحث ہوں گے ۔ اس کے علاوہ پٹھان کوٹ میں دہشت گرد حملے کے واقعہ نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مصالحت کی کوششوں کو ضآئع کردیا ہے ۔ 16فبروری کو اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بعد وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو کل ‘ کُل جماعتی اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں پُرامن کارروائی چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں سے سیاسی حریفانہ روش ترک کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔ پارلیمنٹ بجٹ سیشن کے آغآز والے دن ہی لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی ایوان میں تمام پارٹیوں ‘ قائدین سے مشاورت کریں گی ۔

بجٹ سیشن کے مدنظر کانگریس ورکنگ کمیٹی کا صدر پارٹی سونیا گاندھی کی جانب سے اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ اس اجلاس سے توقع ہے کہ بجٹ سیشن کیلئے اپوزیشن کی تیاری کا جائزہ لیا جائے گا ۔ پیر کے دن ہونے والے کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس میں پارلیمنٹ بجٹ سیشن کے لئے ایوان کے اندر اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو قطعیت دی جائے گی ۔ راجیہ سبھا سے تعلق رکھنے والے صدر جمہوریہ اور چیرمین راجیہ سبھا حامد انصاری نے کل ہی ان قائدین کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ پارلیمانی جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ ہم عوامی مسائل کو حل کرنے کو یقینی بنائیں ‘ یہ نہایت ہی ضروری ہیکہ عوام کے تعلق سے حساس اُمور کو انجام دیا جائے  ۔ یہ ریمارکس اس تناظر میں آتے ہیں کیونکہ گذشتہ دو سیشن کے دوران اپوزیشن نے پارلیمانی کارروائی کو درہم برہم کردیا تھا ‘ کئی اہم مسائل اور بلوں کی منظوری روک دی گئی تھی ۔ حکومت نے پہلے بھی کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں جواہر لال نہرو تنازعہ پر بحث کیلئے کھلا ذہن رکھتی ہے ۔ اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کرتے ہوئے مسائل کی یکسوئی پر دھیان دینا چاہتی ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے 4فبروری کو بھی اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین سے ملاقات کیتھی جہاں پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ سیشن کی مکمل مدت کو پُرسکون چلنے دیا جائے گا اور ریاستوں میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے باوجود سیشن کی مدت کو کم نہیں کیا جائے گا ۔ حکومت نے اس سیشن میں پیش کئے جانے والے اپنے ایجنڈوں کو تیار کرلیا ہے اور وزارت پارلیمانی اُمور کی جانب سے 94اُمور کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے ۔ ان میں سے 26 اُمور کو اولین ترجیح دی جائے گی چونکہ مختلف وزارتوں کی جانب سے ان اُمور کی پارلیمانی بجٹ سیشن میں یکسوئی کیلئے زور دیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT