Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ بجٹ سیشن کی کارروائی کو مؤثر بنانے کی کوشش

پارلیمنٹ بجٹ سیشن کی کارروائی کو مؤثر بنانے کی کوشش

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کل جماعتی اجلاس ، اپوزیشن کا سلگتے مسائل پر سخت موقف حکومت کیلئے پریشان کن

نئی دہلی 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے مسئلہ پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے پس منظر میں آج کُل جماعتی اجلاس میں جو وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن قائدین کے ساتھ مقرر کیا تھا، صدر جواہرلال نہرو طلبہ یونیورسٹی کنہیا کمار پر غداری کے الزام میں مقدمہ کی گونج سنائی دی جبکہ حکومت نے یہ موقف اختیار کیاکہ یونیورسٹی کے احاطہ میں منعقدہ جلسہ عام میں انتہائی قابل اعتراض نعرے بلند کئے گئے تھے۔ حکومت نے کہاکہ وہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے تنازعہ پر پارلیمنٹ کے آئندہ بجٹ اجلاس کے دوران جس کا آغاز 23 فروری سے ہوگا، کھل کر مباحث کرنے اور اپوزیشن کے تمام مسائل کی یکسوئی کرنے کے لئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ اپوزیشن کے ظاہر کردہ تمام اندیشوں کا ازالہ کردیں گے۔ مودی نے اجلاس کے دوران کہاکہ اپوزیشن پارٹیوں نے کئی مسائل اُٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ مودی صرف بی جے پی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے دو گھنٹے طویل اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے اجلاس میں سیاسی پارٹیوں نے جو وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل طلب کیا تھا، اپنے اندیشے ظاہر کئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم اپوزیشن کے اُٹھائے ہوئے تمام مسائل کا جواب دیں گے

اور اُن کی یکسوئی کریں گے۔ ہمیں اُمید ہے کہ خوشگوار ماحول کے ساتھ پارلیمنٹ میں اقوال کو عمل کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ اِس بات پر اتفاق رائے دیکھا گیا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی بلا رکاوٹ جاری رہنی چاہئے۔ بی جے پی نے کانگریس پر الزام عائد کیاکہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے تنازعہ میں وہ قوم دشمن عناصر کی تائید کررہی ہے، قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے کہاکہ اُن کی پارٹی ایسے تمام طلبہ سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے جنھوں نے ہندوستان کے اتحاد اور دستور پر ضرب لگانے والے نعرے بلند کئے تھے۔ لیکن زور دے کر کہاکہ غداری کا کنہیا کمار کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ وہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے زیرحراست صدر ہیں۔

اُنھوں نے بی جے پی قائدین پر الزام عائد کیاکہ وہ پارٹی قیادت کو قوم دشمن قرار دیتے ہوئے اسے بدنام کررہے ہیں اور کہاکہ حکومت کو اِس سے باز آجانا چاہئے۔ وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن قائدین کے اندیشوں میں خود کو شامل کرتے ہوئے کہاکہ قوم دشمن جیسی اصطلاحات اس طرح عام طور پر استعمال نہیں کی جانی چاہئیں۔ اُنھوں نے وزیراعظم مودی کا ہٹلر سے تقابل کرنے پر اعتراض بھی کیا اور کہاکہ سیاسی پارٹیوں کو بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ہر مسئلہ پر اپنے دور حکومت میں مباحث کرنے کے لئے تیار ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُنھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ حکومت مفاہمت کے لئے زیادہ فاصلہ طے کرنے تیار ہے۔ جو کچھ جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں ہوا، اِس پر کھلے مباحث ہونے چاہئیں۔ وہاں جو پوسٹرس استعمال کئے گئے تھے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں پر پولیس کو نہیں آنا چاہئے تھا۔ پولیس کی آمد سے قبل ماحول بہت اچھا اور خوشگوار تھا۔ یہ بھی صحافت کے بعض گوشوں نے حقائق کو حد سے زیادہ بڑھاکر پیش کیا ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ روایتی کُل جماعتی اجلاس پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل 22 فروری کو طلب کیا جانا چاہئے تھا جس میں بلز اور دیگر متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا۔

TOPPOPULARRECENT