پارلیمنٹ بدستور شوروغل ، نعرے بازی کی نذر

NEW DELHI, DEC 18 (UNI):- Rajya Sabha MP Mir Mohammad Fayaz demonstrating in front of the statue of Mahatma Gandhi, at Parliament House, in New Delhi on Tuesday. UNI PHOTO-DK24U

دونوں ایوان میں رافیل ، کاویری مسائل پر ہنگامہ ۔ راجیہ سبھا میں پانچویں دن بھی کام نہ ہوا

نئی دہلی ۔ 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ میں رافیل معاملت اور کاویری مسئلہ پر پُرشور احتجاج اور شوروغل کے مناظر بدستور جاری ہے ، جیسا کہ آج لگاتار پانچویں روز راجیہ سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور جاریہ سرمائی اجلاس میں آج لوک سبھا کی کارروائی بمشکل ایک گھنٹہ چل سکی ، جس کے بعد اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا ۔ جب کہ سرکاری اور اپوزیشن بنچوں کی طرف سے کئی مسائل بشمول رافیل معاملت کے بارے میں نعرے بازی اور احتجاج ہورہا تھا ۔ راجیہ سبھا میں صبح جب ایوان مجتمع ہوا ، چیرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ارکان کو مطلع کیا کہ کئی نوٹسیں ہنگامی اُمور کے بارے میں اصول ہوئی ہیں جن کا تعلق باز ریاستوں میں طوفانوں سے آبادی کا متاثر ہونا ، قیمتوں میں اضافہ سے لیکر زرعی بحران ہیں ۔ ان نوٹسوں کو مباحث کیلئے قبول کیا گیاہے ۔ نائیڈو نے ارکان سے اپیل کی کہ ایوان کو اپنا کام کاج کرنے دیں ۔ چیرمین نے کہا کہ وہ مراعات کی ایک نوٹس کا جائزہ لے رہے ہیں جو اپوزیشن نے دی ہے ۔تاہم وزراء کی جانب سے کاغذات پیش کرنے کے فوری بعد ٹاملناڈو کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں آل انڈیا انا ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے سے تعلق رکھنے والے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔ وہ پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے اور کاویری دریا پر ایک ڈیم کی تعمیر کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے ۔ آندھراپردیش کے بعض ارکان کو بھی پلے کارڈس لہراتے ہوئے اپنی ریاست کیلئے خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ اس نعرے بازی کے درمیان اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ رافیل جیٹ معاملت پر حکومت کے خلاف تحریک مراعات کو قبول کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ معاملہ عوام کو برہم کررہا ہے ۔ تاہم نائیڈو نے کہا کہ کرسی صدارت کو مراعات کی نوٹس پر رائے قائم کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے ۔ لوک سبھا میں صبح کارروائی شروع ہونے کے بعد کانگریس ارکان اپنے ہاتھوں میںپلے کارڈس لئے ایوان کے وسط میں پہنچ گیء اور رافیل معاملت کی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی ( جے پی سی ) کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بلند کئے ۔ وقفہ سوالات کے دوران ایوان کے وسط میں اناڈی ایم کے ، ٹی ڈی پی اور کانگریس کے زائد از 30 ارکان موجود تھے ۔ اس شوروغل کے درمیان صرف ایک سوال سے نمٹا جاسکا جو ادرک کی پیداوارسے متعلق رہا ۔

TOPPOPULARRECENT