Tuesday , October 16 2018
Home / اداریہ / پارلیمنٹ سرمائی سیشن

پارلیمنٹ سرمائی سیشن

پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان عوام کے مسائل پر بحث نہیں ہورہی ہے بلکہ ملک کی سیاست میں آنے والے تیزی کے رجحان نے اپوزیشن کو وزیراعظم مودی کے ریمارکس پر چراغ پا ہونے کا موقع دیا ہے ۔ گجرات اسمبلی انتخابات کے لیے مہم چلانے کے دوران وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ گجرات میں پاکستان مداخلت کررہا ہے ۔ بی جے پی کو ناکام بنانے کی سازش کرنے کے لیے کانگریس کے معطل شدہ لیڈر منی شنکر ائیر کی رہائش گاہ پر پاکستانی عہدیداروں کا ایک خاص اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ بھی شریک تھے ۔ وزیراعظم مودی کے اس ریمارک نے گجرات انتخابات کا رخ بدل دیا تو وزیراعظم مودی پر منی شنکر ائیر کی ’ نیچ ‘ آدمی کہہ کر کی گئی تنقید گجرات کے رائے دہندوں کا ذہن تبدیل کرنے کا باعث بن گئی ۔ اب انتخابات ہوچکے اور نتائج بھی آچکے مگر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کانگریس اس موضوع پر بحث کرنے کے لیے زور دے رہی ہے ۔ وزیراعظم سے معذرت خواہی کا مطالبہ کررہی ہے کہ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر کانگریس قائدین پر الزام عائد کیا کہ اس نے پاکستان سے مل کر سازش رچائی ہے ۔ اب انتخابی مہم میں کہی گئی بات کا معاملہ حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان لڑائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن دو پارٹیوں کے قائدین کی بیان بازیوں کے مسئلہ کو حل کرنے میں ہی ضائع ہوجائے تو عوام کے مسائل جوں کا توں رہے جائیں گے ۔ آپسی جھگڑے حل کرتے کرتے حکمراں پارٹی اور اپوزیشن پارلیمانی ایوان کی قدر و منزلت کو گنوا دیں گی ۔ چنانچہ انتخابی لڑائی کا سیاسی کھیل ایوان پارلیمنٹ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ ایوان میں وزیراعظم مودی اس سے معافی مانگیں جب کہ یہ مسئلہ ایوان کے باہر کا ہے ۔ حکومت نے یہ واضح کردیا ہے کہ وزیراعظم نہ ہی معافی مانگیں اور نہ ہی وضاحت کریں گے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد سے ملاقات کر کے اس تنازعہ کو حل کرانے کی کوشش کی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات کے دوران ایسی غیر مصدقہ بات کیوں کہی جس پر بعد ازاں وضاحت یا معافی مانگنے کے تنازعہ کو اٹھایا جاسکے ۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں کارروائی تو ٹھپ کر کے دونوں پارٹیاں عوام کے سامنے جوابدہ بنتی جارہی ہیں ۔ کانگریس کا یہ سوال بھی درست ہے کہ آخر وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے گجرات اسمبلی انتخابات کی مہم چلاتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیان کیوں دیا ۔ اگر وزیراعظم کے پاس اس طرح کی کوئی رپورٹ تھی کہ گجرات انتخابات میں بی جے پی کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان نے سازش کی ہے اور کانگریس کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور منی شنکر ائیر اس سازش کا حصہ تھے تو وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں اس سازش کو انٹلی جنس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ بے نقاب کرواسکتے تھے مگر محض انتخابی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے جلیل القدر عہدہ وزارت عظمیٰ کا سہارا لے کر مودی نے ملک کی بڑی اپوزیشن کو مشکوک بنایا تاکہ بی جے پی کے انتخابی موقف کو مضبوط کرسکیں اور مودی اس مقصد میں کامیاب ہوگئے ۔ پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن مختصر وقفہ کے لیے منعقد کیا جارہا ہے عام طور پر سرمائی سیشن کو نومبر کے وسط میں طلب کیا جاتا ہے مگر اس مرتبہ حکومت نے 15 دسمبر سے سیشن طلب کیا اور اس کے پاس صرف کام کے 14 دن ہیں ۔ اس میں کم از کم 25 مزید التواء بل اور 14 نئے بلوں کو منظور کرانا ہے ۔ لیکن ایوان کے اندر کارروائی کو ٹھپ کردینے والے احتجاج اور سرکاری بنچوں کے موقف نے پارلیمانی اقدار کو ٹھیس پہونچائی ہے ۔ اب گجرات کے نتائج آچکے ہیں تو دونوں پارٹیوں حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کو پاکستان کی آڑ میں سیاسی کھیل سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT