Tuesday , December 11 2018

پارلیمنٹ سیشن میں تلنگانہ بل پیش کرنا یقینی: کانگریس

نئی دہلی /31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تلنگانہ بل کو آنے والے پارلیمنٹ سیشن میں بہرصورت پیش کیا جائے گا۔ کانگریس نے آج کہا کہ آندھرا پردیش اسمبلی کی جانب سے تلنگانہ بل کو مسترد کردینے سے کچھ نہیں ہوگا، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کور گروپ اجلاس میں تلنگانہ مسئلہ کا جائزہ لیا۔ پارٹی تر

نئی دہلی /31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تلنگانہ بل کو آنے والے پارلیمنٹ سیشن میں بہرصورت پیش کیا جائے گا۔ کانگریس نے آج کہا کہ آندھرا پردیش اسمبلی کی جانب سے تلنگانہ بل کو مسترد کردینے سے کچھ نہیں ہوگا، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کور گروپ اجلاس میں تلنگانہ مسئلہ کا جائزہ لیا۔ پارٹی ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ کانگریس کسی بھی صورت تلنگانہ کے قیام کی پابند عہد ہے۔ پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ریاستی اسمبلی میں جو کچھ ہوا ہے، وہ غیر متوقع نہیں ہے۔

انھوں نے بی جے پی پر درپردہ تنقید کی اور کہا کہ بعض پارٹیاں تلنگانہ مسئلہ پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہیں، ان کے چہرے اس وقت آشکار ہوں گے، جب یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔ ریاستی اسمبلی میں جو کچھ ہوا، وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ یو پی اے حکومت نے تلنگانہ بنانے کا عہد کرلیا ہے۔ اگرچہ کہ اسمبلی کی منطوری کی ضرورت نہیں ہے، ہم کو اس جمہوری عمل پر ایقان ہے۔ اس دوران وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یو پی اے کے مرحلہ دوم میں ہی تلنگانہ بن جائے گا۔ 5 فروری سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ سیشن میں بل کی پیشکشی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور یہ بل منظور ہوگا، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تلنگانہ پر بی جے پی کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا: جے پال ریڈی
نئی دہلی /31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ بل سے متعلق پیش کردہ تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر جے پال ریڈی نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ مجوزہ قانون میں ترمیمات کے لئے اصل اپوزیشن کے مطالبات کے درمیان جے پال ریڈی نے زور دے کر کہا کہ ریاستوں کے قیام کا فیصلہ صرف پارلیمنٹ کرے گی۔ آندھرا پردیش اسمبلی میں جو کچھ ہوا، اس کے لئے پارلیمنٹ ہرگز پابند نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT