Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ سیشن کے بعد …؟

پارلیمنٹ سیشن کے بعد …؟

کانگریس پارٹی اس ملک کی سب سے قدیم پارٹی ہے۔ اس نے کرنسی کے مسئلہ پر اب تک عوامی حمایت حاصل کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں شوروغل اور بیان بازی کے عمل کو اختیار کیا۔ سوال یہ اٹھ رہا ہیکہ پارلیمنٹ سیشن کے ختم ہونے کے بعد کانگریس کا وجود بھی غیراہم ہوجائے گا۔ 16 ڈسمبر کو پارلیمانی سیشن کا عمل پورا ہورہا ہے۔ ان تمام ایام  میں ایوان میں کسی قسم کی کارروائی چلنے نہیں دی گئی۔ پارلیمنٹ کے اندر حکومت پر کرنسی مسئلہ کو لیکر دباؤ ڈالنے میں ناکام کانگریس اور اس کی قیادت خاص کر نائب صدر راہول گاندھی کے تعلق سے سیاسی بحث یہ چھڑ گئی ہیکہ پارٹی عوامی تائید سے محروم ہوکر خالی برتن بن گئی ہے۔ حکومت کے خلاف اس کے ہر احتجاج کو عوامی تائید کا حاصل نہ ہونا غورطلب امر ہے۔ 16 نومبر کو شروع ہوئے پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے افتتاحی دن سے لیکر اب تک کانگریس اور اس کے ارکان نے اپنی جانب سے یہ کوشش کی کہ نوٹوں کی منسوخی سے عوام کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں ایوان میں خاطرخواہ اکثریت نہ ہونے سے وہ ایک طاقتور اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں خود کو بے بس محسوس کرنے کا احساس علانیہ دکھائی دے رہا ہے۔ لوک سبھا 44 ارکان پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میں 60 ارکان نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش ضرور کی مگر وہ ایک مضبوط اپوزیشن ثابت نہیں ہوسکی۔ ایوان میں انا ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس کا ساتھ حاصل کرنے میں بھی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کی کارروائیوں کو روکا جانا اور پارلیمانی احاطہ میں واقع گاندھی جی کے مجسمہ کے سامنے دھرنا دینا یا صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کو یادداشت پیش کرنے اپوزیشن قائدین کے وفد کی قیادت کرنے تک ہی کانگریس نے خود کو مصروف رکھا ے۔ جب نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے اے ٹی ایم بینکس کے سامنے کھڑے ہوکر عام عوام سے اظہاریگانگت کیا تو اس کا بھی عوام پر خاص اثر نہیں ہوا۔ عوام اپنی خود کی رقم حاصل کرنے کیلئے گھنٹوں سخت مشکلات کا سامنا کرنے تیار نظر آرہے ہیں مگر اپوزیشن کا ساتھ دینے سے گریز  کررہے ہیں۔ کرنسی نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ واپس لینے کیلئے حکومت کو مجبور کرنے میں ناکام کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے یہ کہہ کر سیاسی بحث کا موضوع بنا لیا کہ پارلیمنٹ میں اگر میں نے زبان کھولی تو زلزلہ آجائے گا۔ انہوں نے کیش لیس لین دین کو سراسر مودی کے حق میں منفعت بخش قرار دیا تھا۔ اس کیش لیس اسکیم کو ملک کا سب سے بڑا اسکام قرار دینے والے راہول گاندھی کے پاس اگر مودی حکومت کی بدعنوانیوں کا ثبوت ہے تو اسے فوری عوام کے سامنے منکشف کیا جانا چاہئے۔ پارلیمنٹ سیشن میں اپنی زبان کھولنے پر زلزلہ آجانے کا دعویٰ کرنے والے راہول گاندھی کو اس تعلق سے بیان بازی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے مگر وہ کس موقع کا انتظار کررہے ہیں یہ وہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ ہر کوئی جان چکا ہیکہ نوٹ بندی کا مسئلہ مودی حکومت نے صرف کارپوریٹ دوستوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا ہے۔ پارلیمنٹ کارروائی کے ختم ہونے کے بعد کانگریس کے پاس کوئی طاقتور پلیٹ فارم نہیں رہے گا تو وہ مودی حکومت کو بے نقاب کرنے میں ناکام ہوجانے کا ازخود ماتم کرے گی۔ اگر راہول گاندھی اپنے ادعا کے مطابق مودی حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت رکھتے ہیں تو انہیں منظرعام پر لانے کیلئے کسی موقع محل کا انتظار کرنا نہیں چاہئے۔ اس ملک غریب عوام اور کسان نوٹوں کی منسوخی کے باعث شدید پریشان ہیں۔ ان کے سامنے ایک اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کی حیثیت سے وقت گذاری والے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ راہول گاندھی صرف یہی کہتے آرہے ہیں کہ ان کے پاس معلومات ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ان کے پاس نوٹ بندی اسکام کے پیچھے اصل مقاصد اور اسکام کے تعلق سے ٹھوس ثبوت پائے جاتے ہیں۔ اگر ان کے پاس واقعی ثبوت ہوتے تو وہ اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے میں پس و پیش نہ کرتے اور عوام الناس کے سامنے ان ثبوت کو رکھ کر مودی حکومت کے اسکامس کو منظرعام پر لاتے۔ اب تک کی پارلیمانی کارروائی کو ضائع کرنے کے بعد انہیں عوام کو مزید بیوقوف بنانے والے عمل سے احتراز کرنا چاہئے ورنہ ایک تاریخی اور قدیم پارٹی کے وجود کو خطرہ بڑھتا جائے گا۔ غیرمعیاری اور غیرمصدقہ بیان بازی کو عوام بھی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT