Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی 250 گھنٹے پرشور احتجاج کی نذر

پارلیمنٹ غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی 250 گھنٹے پرشور احتجاج کی نذر

لوک سبھا میں 19 کے منجملہ پانچ
اور راجیہ سبھا میں 580 کے منجملہ
صرف 17 سوالات کے جواب
دیئے جاسکے، تحریک عدم اعتماد
لیت و لعل کی شکار

نئی دہلی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے دونوں ایوان آج غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیئے گئے جہاں بلاوقفہ شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے سبب سارا بجٹ سیشن عملاً تعطل و التواء کی نذر ہوگیا اور کارکردگی کے مقررہ 250 گھنٹے پرشور احتجاج کے سبب ضائع ہوگئے۔ راجیہ سبھا میں 19 مقررہ سوالات کے منجملہ محض پانچ پر زوراء نے زبانی بیان دیا جبکہ لوک سبھا میں 29 نشستوں کے درمیان ایسے 580 کے منجملہ صرف 17 سوالات کے جواب دیئے جاسکے۔ لوک سبھا میں مختلف جماعتوں کے پرشور احتجاج کے سبب حکومت کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے پیش کردہ تحریکات عدم اعتماد پر بھی بحث نہیں کی جاسکی۔ راجیہ سبھا کے صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے احتجاجی ارکان سے کہا کہ وہ ترقی کے راستہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ انہیں (ارکان کو) قوم کے وسیع تر مفادات ملحوظ رکھنا چاہئے۔ آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کے موقف، بینک اسکامس، کاویری آبی انتظامی بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ، مجسموں کی توڑپھوڑ، ایس یس ؍ ایس ٹی قانون پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اترپردیش کے کاس گنج کی صورتحال جیسے موضوعات پر مسلسل احتجاج کے سبب تعطل و التواء دیکھے گئے۔ بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ سے شروع ہوا جس کی 22 نشستیں ہوئیں لیکن تقریباً تمام موقعوں پر تعطل و التواء دیکھا گیا۔ اسپیکر سمترامہاجن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 29 نشستوں کے دوران ایوان صرف 34 گھنٹے اور پانچ منٹ تک کام کرسکا۔ مہاجن نے کہا کہ ’’خلل اندازی اور جبری التواء سے 127 گھنٹے اور 45 منٹ کی مصروفیات متاثر ہوئیں۔ ایوان زیریں میں فوری نوعیت کی سرکاری مصروفیات کی تکمیل کیلئے تقریباً 9 گھنٹے اور 47 منٹ کام کیا گیا۔ ایوان میں 580 درج شدہ سوالات کے منجملہ صرف 17 کے جوابات دیئے جاسکے۔ اس طرح اوسطاً یومیہ 0.58 سوال کے جواب دیئے گئے۔ ماباقی درج شدہ سوالات اور 6,670 غیر مندرج سوالات کے تحریری جوابات ایوان میں پیش کئے گئے۔ صرف پانچ بلس جن میں کلیدی فینانس بل 2018ء بھی شامل ہے، جس کیلئے بجٹ سیشن طلب کیا گیا تھا منظور کرلئے گئے اور بجٹ سیشن کے دوران لوک سبھا میں پانچ بل یپش کئے گئے۔ سمترامہاجن نے کہا کہ ’’عوامی فلاح و بہبود اور عوامی مفاد سے متعلق مسائل اٹھانے کیلئے یہ ایوان تمام ارکان کیلئے ایک مقدس مقام‘‘ ارکان کو چاہئے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد کو ذہن نشین رکھیں۔ سیشن کے آخری دن بھی کاویری آبی انتظامی بورڈ کیلئے انا ڈی ایم کے اور کانگریس کے ارکان کے احتجاج کے سبب لوک سبھا کی کارروائی متاثر ہوئی اور تلگودیشم کے ارکان نے آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے کا مطالبہ کیا۔
سمترا مہاجن نے جو ارکان کے مسلسل احتجاج سے عملاً مایوس اور برہم نظر آرہی تھیں، کہا کہ ’’آج کارروائی کا آخری دن ہے۔ اگر آپ تیار نہیں ہیں تو میں غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردوں گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحریکات عدم اعتماد کی نوٹسوں پر بحث کا آغاز چاہتی تھیں۔ ’’مجھے افسوس ہے کہ آپ (ارکان) یہ نہیں چاہتے تھے‘‘۔ اسپیکر کے خطاب کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی بھی ایوان میں موجود تھے۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز سے قبل ہی انا ڈی ایم کے، کانگریس اور تلگودیشم کے ارکان پلے کارڈس لہراتے ہوئے کرسی صدارت کے روبرو جمع ہوچکے تھے۔ تاہم مہاجن کی اپیل پر اکثر ارکان اپنی نشستوں پر واپس چلے گئے لیکن تلگودیشم کے ارکان وسط میں موجود رہے اور سمترامہاجن نے اپنا اختتامی بیان جاری رکھا۔ راجیہ سبھا میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھے گئے جہاں صدرنشین وینکیا نائیڈو نے بحث و کارکردگی کے موقعوں سے محرومی پر تشویش و برہمی کا اظہار کیا۔ راجیہ سبھا کے 245 ویں سیشن سے اختتامی خطاب کے دوران کہا کہ ’’اس انتہائی اہم پارلیمانی ادارہ کی سنگین بداحترامی، فرائض سے پہلوتہی اور موقعوں سے محرومی پر مجھے کافی دکھ پہنچا ہے‘‘۔ ارکان کے مسلسل شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان بالا اپنا تین چوتھا وقت ضائع کرچکا ہے۔ بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ راجیہ سبھا کی 30 نشستیں 40 گھنٹے مقررہ کام کیا جاسکا اور 121 گھنٹے شوروغل، تعطل و التواء کی نذر ہوگئے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’پارلیمانی جمہوریت میں ہمارا ملک قابل فخر مقام حاصل کررہا ہے اور اس نظام کیلئے یہ (شوروغل) ٹھیک نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT