Wednesday , December 12 2018

پارلیمنٹ میں آج حکومت کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد

بی جے پی کو تحریک عدم اعتماد کی شکست کا یقین، شیوسینا نے ہنوز فیصلہ نہیں کیا، غلطی سے وہپ جاری
نئی دہلی 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج اعتماد ظاہر کیاکہ اُسے تحریک عدم اعتماد پر رائے دہی کے دوران ایوان زیریں میں کم از کم 314 ارکان کی تائید حاصل ہوگی۔ شیوسینا نے کہا کہ اس نے تحریک عدم اعتماد کی تائید کا ہنوز فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ پارٹی کی جانب سے غلطی سے وہپ جاری کردیا گیا تھا جسے واپس لے لیا گیا ہے۔شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکر نے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو دہلی میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ بی جے پی کی نظر اب انا ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس پر مرکوز ہوگئی ہے۔ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ مرکزی حکومت سے قربت رکھتے ہیں تو تحریک عدم اعتماد سے اپنی پارٹی کے ارکان کو دُور رکھیں گے۔ انا ڈی ایم کے بھی کچھ ایسا ہی فیصلہ کرے گی۔ بی جے پی کے قومی ترجمان جی ایل نرسمہا راؤ نے اخباری نمائندوں سے ایوان پارلیمنٹ کے باہر بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اعداد و شمار بالکل واضح ہیں۔ بی جے پی کو ایوان زیریں میں اکثریت حاصل ہے۔ این ڈی اے کو 314 ارکان کی تائید کا یقین ہے کیوں کہ این ڈی اے پارٹیوں کے اتنے ہی ارکان ایوان زیریں میں موجود ہیں۔ اِس لئے تحریک عدم اعتماد کی ناکامی یقینی ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ دیگر کئی پارٹیاں بھی تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کریں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ منفی اپوزیشن سے مقابلے کے لئے ہمارے پاس اخلاقی تانا بانا موجود ہے۔ این ڈی اے حکومت کے چار سال قبل برسر اقتدار آنے کے بعد یہ اولین تحریک عدم اعتماد ہوگی۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے فیصلہ کیا ہے کہ اِس تحریک کی تجویز کو قبول کرلیا جائے جسے بی جے پی کی سابق حلیف تلگودیشم نے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن کئی دیگر پارٹیاں بھی تلگودیشم کی تائید میں آگئی ہیں۔ بی جے پی کے سینئر قائد سبرامنیم سوامی نے تلگودیشم پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چار سال سے اِس کے ارکان مرکزی وزیر بنے رہے لیکن تلگودیشم پارٹی نے کبھی حکومت کی مخالفت نہیں کی۔ تلگودیشم نے ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کا چار سالہ دور اقتدار بالکل بے کار تھا۔ درحقیقت تلگودیشم وزراء اِن تمام چار سالوں میں مرکزی وزیر تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ اپوزیشن کو فعال ہونا چاہئے اور اُسے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر بات چیت کرنی چاہئے۔ بی جے پی کے ذرائع کے بموجب حکومت کو ایوان زیریں میں جس کی رکنیت کی مؤثر تعداد 533 ہے، کم ازکم 133 ارکان کی تائید حاصل ہے۔ ترنمول کانگریس کہہ چکی ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی تائید کرے گی اور اِس سلسلہ میں اپنے ارکان کو وہپ جاری کرچکی ہے۔ جبکہ تحریک عدم اعتماد جمعہ کے دن ایوان میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ بی جے پی نے کانگریس کے اِس دعوے کا مذاق اُڑایا کہ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کی تائید کرنے کے لئے درکار تعداد موجود ہے۔ اِس سوال پر کہ کیا کانگریس قائد سونیا گاندھی کا یہ دعویٰ کہ اپوزیشن کے پاس ارکان کی ضروری تعداد موجود ہے، مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور اننت کمار نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سونیا گاندھی کی ریاضی کمزور ہے۔ اننت کمار نے یاد دہانی کی کہ 1999 ء میں بحیثیت صدر کانگریس سونیا گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ اُنھیں 272 ارکان پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہے جو لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے درکار تعداد تھی۔

TOPPOPULARRECENT